 | | | اس دھماکے میں بچے پھنس گئے تھے |
اقوام متحدہ نے افغانستان میں مزاحمت کاروں پر تنقید کی ہے کہ وہ سویلین جانوں کی ’کوئی قدر‘ نہیں کرتے اور ’بڑے پیمانے پر قتل عام‘ کے مرتکب ہیں۔ اقوام متحدہ کا یہ بیان جنوبی افغانستان میں حال میں ایک خودکش حملے میں سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ افغانستان کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس خودکش حملے میں سکول جانے والے بارہ بچے بھی ہلاک ہوئے تھے۔ صوبے ارزگان کے ایک بازار میں ایک بمبار نے خود کو اس وقت اڑا دیا تھا جب نیٹو افواج کا ایک دستہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کئی بچے دیہراؤد کے بازار میں ہونے والے اس دھماکے میں اس وقت پھنس گئے جب وہ سکول سے واپس جارہے تھے۔ کابل میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نمائندے ٹام کوئنِگس نے بتایا کہ مزاحمت کار ’معصوم جانوں‘ کی کوئی قدر نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس ’قتل عام‘ کے لیے کوئی بہانہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ ٹام کوئنِگس نے کہا کہ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سویلین ہلاکتیں روکیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بین الاقوامی اور افغان فوجوں کی کارروائیوں میں کافی شہری مارے گئے ہیں جنہیں وہ ’غلطی‘ کا نتیجہ بتاتے ہیں۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق طالبان مزاحمت کاروں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ارزگان میں ہونے والا حملہ ان کے ’ایک جنگجو نے بہادری کے ساتھ انجام دیا‘۔ نیٹو افواج نے اس حملے کو ’غیرانسانی اور قابل مذمت‘ قرار دیا ہے۔ گزشتہ اٹھارہ مہینوں کے دوران طالبان مزاحمت سے متعلق تشدد کے واقعات میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
|