 | | | افغانستان میں تین ہزار جرمن فوجی اتحادی افواج کا حصہ ہیں |
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریب اغواء کیے گئے دو جرمن شہریوں کے بارے میں طالبان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے تین ہزار جرمن فوجیوں کی واپسی کے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ افغان اور جرمن حکام کا کہنا ہے کہ وہ (جرمن شہریوں کی) ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ان کی تصدیق چاہتے ہیں۔ طالبان نے ان اٹھارہ جنوبی کوریائی باشندوں کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی ہے جنہیں جمعرات کو قندھار سے کابل جاتے ہوئے اغواء کر لیا گیا تھا۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق دونوں جرمنوں کو اپنے چھ افغان معاونوں کے ساتھ بدھ کو اغواء کیا گیا تھا۔ جرمن شہری، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، صوبہ وردک میں ایک ڈیم بنانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ برلن میں جرمن وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارٹن جیگر نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت طالبان کے دعوے کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے، لیکن اس کی (ہلاکتوں) ابھی تک آزادانہ ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔  | | | جنوبی کوریا کے صدر نوموہیان کے مطابق حکومت مغویان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے |
قاری یوسف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک جرمن مغوی کو مقامی وقت کے مطابق بارہ بج کر پانچ منٹ پر قتل کیا گیا جبکہ دوسرے مغوی کو قتل کرنے کی ڈیڈلائن میں افغان حکومت کی طرف سے رابطے کے بعد توسیع کی گئی تھی۔ ’تاہم دوسرے جرمن کو بھی تھوڑی دیر بعد قتل کر دیا گیا‘۔ اغواء ہونے والے جنوبی کوریائی باشندوں کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ افغانستان میں موجود جنوبی کوریا کے دو سو فوجی ملک سے چلے جائیں۔ جنوبی کوریا کے صدر نوموہیان نے سنیچر کو ٹیلی ویژن کے ذریعے دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت مغویان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ جنوبی کوریا نے افغانستان سے اپنے فوجی دستے کو رواں سال کے آخر تک واپس بلا نے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے۔ |