BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 July, 2007, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مرنے والے شاید شہری ہی تھے‘

افغان قصبے گرشک میں زخمی بچہ
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ان پر کئی گھنٹے تک فضائی حملے ہوتے رہے
افغانستان میں امریکی سربراہی میں قائم اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبے ہلمند میں فضائی حملوں میں بظاہر کئی افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

نیٹو اور اتحادی افواج نے افغان فورسز کے ساتھ جمعہ کو طالبان مزاحمت کاروں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں تاہم آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے قبل نیٹو افواج کا کہنا تھا کہ کارروائی ہوئی ہے لیکن انہیں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی علم نہیں ہے۔

ایک ہفتے قبل صوبہ ہلمند میں پچیس شہریوں کی ہلاکت کے بعد صدر حامد کرزئی نے غیرملکی افواج پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا حکم دیا تھا۔

اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کی افواج پر، جو افغان نیشنل آرمی کے ساتھ مل کر ایک دریائی وادی کو صاف کر رہی تھیں، مزاحمت کاروں نے راکٹوں کے ذریعے فائر کیے جانے والے گرینڈز سمیت شدید فائرنگ شروع کردی۔

اتحادی فوج کا کہنا تھا کہ ان کی افواج کو جلد ہی مزاحمت کاروں کی کئی پوزیشنوں کا علم ہو گیا جس پر انہوں نے جوابی فائرنگ کی اور اس کے بعد اتحادی اور نیٹو افواج نے مل کر فضائی حملے کیے جس نے مزاحمت کاروں کے تمام مقامات کو تباہ کردیا۔

اتحادی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات سے جو باقیات ملی ہیں وہ بظاہر شہریوں کی ہیں۔ یہ لاشیں ان مقامات پر پڑی ملیں جہاں سے پہلے لگائے اندازوں کے مطابق غیرملکی افواج پر فائرنگ کی جا
رہی تھی۔

ترجمان نے شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کاروں کی وجہ سے بچے اور خواتین مشکلات سے دوچار ہیں۔

اس سے قبل ہلمند کے پولیس چیف نے بتایا تھا کہ غیرملکی افواج نے فضائی حملوں سے قبل اپنے افغان ہم منصبوں سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی۔

تاہم نیٹو کے ترجمان نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فضائی طاقت کا استعمال افغان فوج کو بچانے کے لیے کیا گیا۔

قریبی قصبے گریشک کے میئر نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مقامی افراد نے بی بی سی کو فون کرکے بتایا کہ ان حملوں میں پچاس سے اسی کے قریب شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج نے جمعہ کو دو سے تین گھنٹوں تک ان کے علاقے پر بمباری کی۔

مشتبہ طالبانافغانستان میں تشدد
بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
برطانوی فوج کی گاڑیطالبان کا خاتمہ،
پانچ سال بعد بھی کیوں ممکن نہیں ہو سکا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد