افغانستان: ظاہر شاہ انتقال کر گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے سابق بادشاہ ظاہر شاہ 92 سال کی عمر میں کابل میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔ 1973 میں شاہی تخت سے بے دخلی کے بعد انہیں جلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی تاہم 2002 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ظاہر شاہ افغانستان واپس آ گئے تھے۔ ان کا انتقال کابل میں صدارتی محل کے کمپاؤنڈ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ سابق بادشاہ نے اٹلی میں 28 سال جلاوطنی کے دوران افغانستان میں جنگی صورت حال اور پھر طالبان کی اسلامی شدت پسندی کا مشاہدہ کیا۔ وہ 1914 میں کابل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فرانس سے تعلیم حاصل کی اور 1933 میں اپنے والد کے قتل کے بعد محض انیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ جنگ عظیم دوئم میں انہوں نے افغانستان کو اس سے الگ رکھا تاہم اس جنگ کے بعد انہوں نے ملک میں جدید اصلاحات کی ضرورت محسوس کی۔ ظاہر شاہ غیرملکی ماہرین کو ملک میں لائے اور ملک کی پہلی جدید یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے یورپ کے ساتھ ثقافتی اور معاشی تعلقات کو بھی وسعت دی۔ 1973 میں جب وہ اٹلی میں اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے گئے تو ان کے کزن محمد داؤد نے انہیں تخت سے ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ محمد داؤد ملک میں جدیدیت کے فروغ اور مغرب کی طرف جھکاؤ کے مخالف تھے۔ 2002 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ظاہر شاہ افغانستان واپس آئے اور انہوں نے افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس میں جو ’لویا جرگہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، شرکت کی۔ بعد ازاں وہ دارالحکومت میں واقع اپنے سابق محل منتقل ہو گئے۔ ان کی اپنے سابق محل میں واپسی لویا جرگے میں طے پانے والے ایک معاہدے کا حصہ تھی۔ انہوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ وہ حامد کرزئی کے مقابل افغانستان کے سربراہ کے لیے کھڑے نہیں ہوں گے۔ وطن واپسی پر ان کا کہنا تھا:’ مجھے یہاں واپس آکر بہت خوشی ہوئی ہے، بہت خوشی‘۔ ان کے آٹھ بچے ہیں جن میں سے ایک شاہ محمود ظاہر 2002 میں 56 سال کی عمر میں روم میں انتقال کر گئے تھے۔ ظاہر شاہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت اور پیار تھا۔ ان کے طویل دور حکمرانی کو امن، سکیورٹی اور جدید سیاسی اصلاحات کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ چالیس سال پر محیط ان کے دور اقتدار کی اہم باتوں میں خواتین کی تعلیم، انتخابات میں رائے شماری اور پریس کی آزادی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان، انسانی حقوق کی پامالی‘14 December, 2004 | آس پاس افغانوں کو نو اکتوبر کا انتظار ہے08 October, 2004 | آس پاس افغانستان کی پہلی خاتون سراغ رساں23 November, 2004 | آس پاس طالبان کی حمایت: خوف یا پسند 07 October, 2004 | آس پاس افغانستان میں انتخابات، سوال اور جواب03 October, 2004 | آس پاس افغانستان: 70 سے زائد ہلاکتیں07 July, 2007 | آس پاس افغانستان: اجتماعی قبر کا انکشاف06 July, 2007 | آس پاس واپسی لیکن خوشی سے نہیں20 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||