BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 December, 2003, 13:44 GMT 18:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لویا جرگہ ایک ہفتہ بعد

صبغت اللہ مجددی
کیا سابق افغان صدر اور موجود رئیس لویا جرگہ صبغت اللہ مجددی مندوبین میں اتفاق رائے پیدا کر سکیں گے؟

افغان اپنی تکلیف دہ تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ سب کی خواہش ہے کہ ملک میں کسی طرح پائیدار امن کی داغ بیل پڑ سکے۔ ہر کوئی سانس روکے لویہ جرگہ کے اتفاق اور اتحاد کے ساتھ اختتام کی اُمید لگائے بیٹھا ہے۔

کیا لویہ جرگہ کے پانچ سو دو اراکین ان کی توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟ کیا وہ ایک ایسی دستاویز یا آئین تیار کر سکیں گے جس سے اس جنگ سے تباہ حال بدقسمت ملک میں امن آجائے اور لوگ سوکھ چین سے رہ سکیں؟ کیا اس ملک کے جنگجو سردار اس آئین میں ان کے اختیارات اور اثرورسوخ میں کمی کو قبول کر لیں گے؟

سوالات بہت ہیں اور جوابات افغانوں کی طرح جرگے کے اختتام کے منتظر۔ صدر کرزئی کی جانب سے جرگے کے اصول متعین کرنے کی غرض سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق اس جرگے کے لئے دس روز کا وقت رکھا گیا ہے۔ لیکن آٹھ دن گزر جانے کے باوجود کوئی بھی حتمی تاریخ دینے کو تیار نہیں کہ یہ کب اختتام کو پہنچ سکے گا۔

جرگے کے رئیس یا سپیکر پروفیسر صبغت اللہ مجددی کا کہنا ہے تین چار روز جبکہ صدر حامد کرزئی ان کو جتنا وقت درکار ہے دینے کہ لئے تیار نظر آتے ہیں۔ لیکن ساتھ میں یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ایک روز کے جرگے کا خرچہ پچاس ہزار ڈالر ہے۔ ایک کمزور زخمی اور جنگ سے اجڑے ہوئے ملک کے لئے یہ یقیناً ایک خطیر رقم ہے۔ لیکن شاید کچھ کام ایسے ہیں جن کے بغیر گزارہ نہیں اور ملک کا آئین بھی ان میں شامل ہے۔

صبغت اللہ مجددی نے اتوار کے روز معمول کی اخباری کانفرنس میں بتایا کہ مجوزہ آئین کے جائزہ کے لئے جرگے کو دس کمیٹیوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے چار نے اپنا کام مکمل کر کے اپنی تجاویز حکام کے حوالے کر دی ہیں۔ باقی چھ کے بارے میں بھی توقع ہے کہ وہ یہ کام اتوار کی شام تک مکمل کرلیں گی۔

لیکن ایک کمیٹی جس کی سربراہی سابق تاجک صدر برہان الدین ربانی کر رہے سب سے زیادہ سُست ثابت ہوئی ہے۔ اسے کمیٹی نمبر ایک کا نام دیا گیا ہے لیکن بقول صبغت اللہ مجددی یہ آخر سے پہلے نمبر پر ہے۔ اس سستی کی وجہ ربانی کی جانب سے لمبے لمبے واعظ کرنا بتایا جاتا ہے۔ ہر کمیٹی آئین کی ایک سو باسٹھ شقوں پر باری باری غور کرتی ہے اور اس میں اگر تبدیلی کی خواہاں ہو تو اس کی تجویز دیتی ہے۔

بڑی متنازعہ دفعات میں ملک میں صدارتی یا پارلیمانی نظام، صدر اور پارلیمان کے اختیارات، اسلام کا کردار اور عورتوں کے حقوق شامل ہیں۔ صدارتی نظام کے حامی کئی اراکین کا خیال ہے کہ وہ صدر کو تقریباً ایک آمر جیسے اختیارات دے کر اپنے ہاتھ باندھ رہے ہیں لیکن ان کی توجیح ہے کہ اس ملک میں اس وقت ایک انتہائی مضبوط صدر درکار ہے: ایسا صدر جس کا پارلیمان بھی مواخذہ نہیں کر سکے گی۔

اسلام کی نوعیت اور عورتوں کے حقوق ایسے دو موضوع ہیں جن پر ایک عمومی اتفاق تو پایا جاتا ہے لیکن بہت سے مندوبین اس بارے میں کسی شک میں نہیں رہنا چاہتے بلکہ صاف الفاظ میں اس کی تشریح یعنی گارنٹی چاہتے ہیں۔

پشتو اور فارسی کو قومی زبانیں قرار دیا جا چکا ہے۔

اس جرگے کی ایک دلچسپ بات جنگجو سرداروں کا کمزور ہونا بتائی جاتی ہے۔ اب بات ووٹ اور اکثریت کے ذریعے کی جاتی ہے ناکہ بندوق اور گولی سے۔ کئی مضبوط مجاہدین سردار اس جرگے میں اپنے آپ کوقدرے زیادہ بے بس اور مجبور پا رہے ہیں۔

پختونوں کو جنہیں پچھلے جرگے میں انتقالی حکومت کے قیام میں مناسب نمائندگی نہ ملنے کی شکایت تھی اس جرگے کے اب تک کی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ اب تک کا آئین ان کی توقعات اور خواہشات کے مطابق نظر آرہا ہے۔ پختونوں کا کہنا ہے کہ چونکہ اراکین کا انتخاب آبادی کے تناسب سے ہوا ہے جس سے انہیں جرگے میں واضع اکثریت حاصل ہے۔ اس کا اظہار جرگے کے سربراہ اور نائب سربراہان کے انتخاب سے ہوچکا ہے۔

توقع ہے کہ اکثر پختون صدارتی نظام کے حق میں رائے دیں گے جس سے جرگے کے اسے ہی اپنانے کے امکانات زیادہ نظر آتے ہیں۔ شمالی اتحاد میں شامل ربانی کی جمعیت اسلامی اور جنبش ملّی پارلیمانی نظام کے حق میں ہیں۔ لیکن کھیل سارا اب نمبروں کا ہے۔ ان کے جرگے کی سربراہی کا اُمیدوار صدر ڈیڑھ سو کے قریب ووٹ ہی حاصل کر سکا تھا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ شمالی اتحاد والے جوکہ اس موقعہ پر تو خاموش ہیں آخر تک یہی روش اپنائیں گے یا نہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ اتنی آسانی سے میدان نہیں چھوڑیں گے اور جرگے کے آخری ایام میں کوئی ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں جس سے یہ اجلاس شاید مزید طول پکڑ جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد