BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2003, 00:47 GMT 05:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لویا جرگہ کتنا بااختیار ہے؟

افغان مندوبین
افغان مندوبین ملک کے نئے آئین کی منظوری کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ملک کے نئے آئین کو حتمی شکل دینے کے لئے تاریخی لویا جرگہ شروع ہوگیا ہے۔

لیکن بہت سے سیاسی مبصرین مختلف عناصر پر، جن میں عبوری صدر حامد کرزئی بھی شامل ہیں، نئی دستاویز کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کا الزام لگا رہے ہیں۔

بہت سے افغانوں اور مبصرین کے خیال میں آئین سے متعلق کئی اہم فیصلے پہلے سے کئے جا چکے تھے اس لئے جرگے کی اہمیت صرف رسمی رہ گئی ہے۔

صدر حامد کرزئی نے جرگے کے آغاز سے کئی روز پہلے ہی ایک بیان میں واضح کر دیا تھا کہ اگر آئین میں وزیراعظم کا عہدہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ آئندہ برس صدارت کے امیدوار نہیں بنیں گے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اختیارات کی تقسیم کسی صورت میں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ ساتھ میں انہوں نے جرگے کے پانچ سو سے زائد مندوبین کے لئے ایک قسم کی حدود کا تعین بھی کر دیا ہے کہ وہ اس سے باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

اس سے یہ خدشات ابھرنے لگے کہ کہیں ملک ایک مرتبہ پھر آمریت کی جانب تو نہیں بڑھ رہا۔ ماضی میں بھی افغان حکمرانوں نے زیادہ سے زیادہ اختیارات اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے ملک کو مشکلات سے دوچار کیا۔ لیکن حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں ایک مضبوط صدر بہت ضروری ہے۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیمیں بھی آئین کے مسودے کی تیاری کے عمل سے مطمئن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسودے کو عام جرگے سے صرف ایک ماہ قبل کیا گیا جس سے اس کے بارے میں عوام اور مندوبین کو آگاہ کرنے کے لئے مناسب وقت نہیں مل سکا۔ وہ اس میں صدر کے اختیارات میں کمی اور پارلیمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ مذہبی حلقے آئین میں اسلام کے بارے میں ابہام کو دور کرنے کے متقاضی بھی ہیں جبکہ عورتوں کے حقوق بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ہوں گے۔

منتظمین اسی وجہ سے آئندہ چند روز میں جرگے کے دوران ایک پیچیدہ اور طویل بحث کی توقع کر رہے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی طور پر دس روز کی پیشن گوئی کی ہے لیکن یہ مندوبین پر منحصر ہے کہ وہ کب تک مسودے کی منظوری دیں گے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہر ایک اضافی روز کا انہیں پچاس ہزار ڈالر خرچہ برداشت کرنا پڑے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد