| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لویا جرگہ: ہارون رشید کے جوابات
دارالحکومت کابل میں منعقد لویا جرگہ میں شریک افغانستان بھر سے پانچ سو عمائدین نے افغانستان میں ایک نئے آئین کے مسودے پر بحث کی ہے۔ بحث کے دوران مختلف نوعیت کے سوالات ابھرے۔ بعض شرکاء نے لویا جرگہ میں بعض قبائل کے مندوبین کی تعداد کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ اس جرگے کا موضوع بحث یہ ہے کہ افغانستان میں صدارتی نظام قائم کیا جائے یا پارلیمانی۔ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے افغانستان کے مجوزہ آئین اور لویا جرگہ کے بارے میں آپ کے سوالوں کا جواب دیا۔ آپ کے سوالات، ہارون رشید کے جوابات ظہیرالدین بابر، ملیشیا: لویا جرگہ کے فیصلے سے پاک افغان تعلقات کیسے متاثر ہوں گے؟ ہارون رشید: ظہیر صاحب کابل میں منعقد کئے جانے والا یہ لویا جرگہ صرف اور صرف افغانستان کو ایک نیا آئین بنا کر دینے کے مقصد کے لئے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات کا بھی ذکر ہوگا لیکن اس کا براہ راست پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ افغانستان کا اندرونی معملہ ہے۔ نیا حتمی آئین کیسا ہوگا، اس کے نتیجے میں مستقبل میں کیسی افغان حکومت وجود میں آتی ہے اور اس کا پاکستان کے ساتھ رویہ کیسا ہوگا اس کا انتظار آپ کو بھی کرنا ہوگا اور مجھے بھی۔ قیصر، لاہور: کیا نئی حکومت میں طالبان شامل ہوں گے؟ کیا نئی حکومت اسلامی قوانین نافذ کرے گی؟ ہارون رشید: طالبان اسلامی تحریک میں تین قسم کے افراد شامل تھے۔ ایک کٹر سخت گیر موقف والے، دوسرے معتدل سوچ رکھنے والے اور تیسرے وہ جو نظریات کی وجہ سے نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے طالبان کے ساتھ تھے۔ ان میں سے پہلے گروہ کے بارے تو صدر حامد کرزئی خود بھی کئی موقعوں پر یہ واضع کر چکے ہیں کہ وہ اُن کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کو تیار نہیں۔ معتدل طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے وہ تیار ہیں لیکن اب تک بظاہر اس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی اور تیسری قسم کے طالبان پہلے ہی نئے سیٹ اپ کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان کی شمولیت ذیادہ معنی خیز نہیں۔ جہاں تک اسلامی قوانین کی بات ہے تو نئے تجویز شدہ آئین میں واضع طور پر لکھا ہے کہ ملک کا کوئی قانون اسلام کے منافی نہیں ہوگا۔ محمود جان، پشاور: لویا جرگہ کے پس منظر میں افغانستان میں پشتونوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا لویا جرگہ تمام قوموں کے عزائم پورا کرسکے گا؟ ہارون رشید: اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نیا آئین کس قدر ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں تمام قوموں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ پشتونوں کو اب بھی موجودہ نظام میں غیرمناسب نمائندگی کی شکایت ہے اور اگر اسے دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو یہ ایک بڑے قضئے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ جہاں تک بات ہے قبائل کے عزائم کی تو ہر ایک کی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ ان کے مفادات کا تحفظ ہو لیکن یہ سب اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ان قبائل کے اندر بھی اتفاق اور اتحاد ہو۔ شیربادشاہ، مردان، پاکستان: کیا لویا جرگہ کی وجہ سے افغانستان میں حالات بہتر ہوں گے؟ ہارون رشید: اس کا ذیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ نئے منظور کئے جانے والے آئین میں نظام حکومت کو چلانے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کے کیسے موثر اصول طے کئے جاتے ہیں اور اہم سرکاری اداروں کو مضبوط کیسے کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں سب سے بڑھ کر اس آئین کو اس کی تمام ممکنہ کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ کس حد تک وہاں کے لوگ قبول کرتے ہیں۔ امکان ہے کہ بہت سے لوگ حتمی آئین سے خوش نہ ہوں۔ ایسی صورت میں کیا وہ اس کو چلنے دیں گے؟ سارا انحصار اسی پر ہے۔ احمد نواز نقوی، کراچی: کیا لویا جرگہ میں طالبان کے نمائندے شامل ہیں؟ ہارون رشید: باظابطہ طور پر تو ہرگز نہیں۔ حکومت نے ایسے تمام افراد کو جن پر جنگی جرائم یا دیگر سنگین الزامات ہیں اس جرگے سے باہر رکھنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ ظفرعلی خان، ڈیرہ اسمٰعیل خان، پاکستان: لویا جرگہ میں افغانستان کے مختلف اضلاع سے نمائندوں کا انتخاب کیسے ہوا؟ ہارون رشید: ہر ضلع میں مقامی افراد نے پہلے مرحلے میں تین سو نمائندوں کا انتخاب کیا جنہوں نے بعد میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے چالیس افراد منتخب کئے ان چالیس افراد نے بعد میں جرگے کے لئے ایک مندوب کا انتخاب کیا۔ لویا جرگے کمیشن نے یہ انتخابات اقوام متحدہ کی مدد سے منعقد کئے۔ اس میں نشستوں کی تقسیم کچھ اس طرح رہی کہ ملک کے تینتیس صوبوں میں تین سو چوالیس نشتیں تقسیم کی گئی جبکہ خواتین کے لئے بھی ہر صوبے سے دو مخصوص نشستیں تھیں۔ ملک کے اندر تقل مکانی پر مجبور افغانوں کے لئے چھ، پاکستان میں پناہ گزینوں کے لئے تیرہ اور ایران سے گیارہ جبکہ نو نشستیں کوچیوں کے لئے مخصوص تھیں۔ صدر کرزئی کو بھی پچاس افراد نامزد کرنے کا اختیار تھا۔ حاجی عبدالرحیم عشقزئی، سنگاپور: کرزئی حکومت افغانستان میں صدارتی نظام کی حمایت کررہی ہے یا پارلیمانی؟ ہارون رشید: صدر حامد کرزئی ایک مضبوط صدراتی نظام کے قیام کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس میں انہوں حریفوں کے علاوہ حلیفوں کی بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ شمالی اتحاد پارلیمانی نظام کا خواہاں ہے۔ نعمان احمد، راولپنڈی: افغانستان کا نیا آئین ماضی کے افغان آئین کے مقابلے میں کس طرح مختلف ہے؟ ہارون رشید: افغانستان کی تاریخ میں یہ نواں آئین ہوگا جو یہ لویا جرگہ منظور کرے گا۔ ماضی میں ہر حکمران نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی خاطر ایسے آئین لکھے جو اب صرف ان کے ناموں کے ساتھ منسوب ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس مرتبہ بھی صدر کرزئی استحکام کی خاطر ایک مضبوط صدر کے عہدے کے خواہاں ہیں۔ کبھی آئین میں بادشاہی، کبھی پارلیمانی اور کبھی دونوں کے ملاپ سے کوئی نظام تیار کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان آئین کی تیاری بھی اتنی جمہوری انداز میں نہیں کی گئی تھی۔ اس مرتبہ بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر خواتین کو خصوصی حقوق اور نمائندگی دینے کی بات کی جا رہی ہے جوکہ ماضی میں اتنی نہیں دی گئی۔ نثار احمد، ٹیکساس، امریکہ: افغانستان میں اسلامی قوانین کیوں نہیں نافذ کئے جارہے ہیں؟ ہارون رشید: دو دہائیوں کی جنگی بدحالی کے بعد یہ لویا جرگہ اب افغانستان میں دوبارہ قانون کی حکمرانی کی جانب ایک کوشش ہے۔ نئے آئین کے مسودے کی کئی ناقدین کے خیال میں شریعت کو واضع الفاظ میں ملکی قانون قرار دیا جانا چاہئے۔ لیکن یہ شرعی نظام کس نوعیت کا ہو اس بارے میں ایک بڑی تعداد میں افغانوں کے خدشات بھی ہیں۔ ان کو، خصوصاً خواتین کو خوف ہے کہ کہیں طالبان کی طرح کی شریعت تو نہیں لائی جائے گی۔ اس جرگہ میں یہ دو سوچ رکھنے والوں کے درمیان اس مسئلہ پر بھی گرما گرم بحث متوقع ہے۔ اس جرگہ میں اس بات کا فیصلہ ہونا ہے کہ اسلامی قوانین کی کیا حیثیت ہوگی۔ عامر سیال، اسلام آباد: کیا لویا جرگہ سے افغانستان کی مختلف قوموں کی زندگی کے حالات بہتر ہوں گے؟ ہارون رشید: اس کا جواب بھی تقریبا وہی ہے جوکہ میں اوپر مردان کے شیر بادشاہ کے سوال کے لئے دے چکا ہوں۔ اگر قوموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تو ضرور۔ عبدالفتح کھِچی، لاڑکانہ، پاکستان: لویا جرگہ کا معنی کیا ہے؟ ہارون رشید: لویا جرگہ پشتو کے دو الفاظ کو ملا کر بنایا گیا ایک نام ہے۔ لویا کا مطلب ہے بڑا یا باعزت، محترم جبکہ جرگہ کہتے ہیں اُس روایتی اجلاس کو جو اس علاقے کے پختون آپس کے مسائل کے حل کے لئے منعقد کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں یہ نام قومی سطح کے مسائل کے حل کے لئے وقتا فوقتا بلائے جانے والے قبائلی سرداروں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے اجلاس کو دیا جاتا ہے۔ تنازعات کے حل کے اس نسبتاً جمہوری انداز کی تاریخ بھی افغانستان کی تاریخ کی طرح کافی پرانی ہے۔ ضیاء المصطفیٰ، راولپنڈی: کیا نئے آئین سے افغانستان میں امن قائم ہوسکے گا؟ ہارون رشید: اس تمام طویل اور تھکا دینے والے پیچیدہ آئین سازی کے عمل کی کوشش اور مقصد تو بظاہر یہی ہے لیکن اس سب کا انحصار ہوگا کہ آیا منظوری کے بعد یہ آئین سب کو بشمول ان جنگجو سرداروں کے جنہوں نے اب تک کرزئی کی رٹ بھی نہیں مانی ہے قبول ہوتا ہے یا نہیں اور وہ اس پر عمل درآمد میں کتنے مخلص ہیں۔ کریم اللہ شفی، کوئٹہ، پاکستان: افغانستان میں کس قبیلے نے لویا جرگہ میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟ ہارون رشید: تیس برسوں کی جنگ کے بعد اب باتیں تو سب قومی اتحاد و یکجہتی اور باہمی رنجشوں کو بالائے طاق رکھنے کی کر رہے ہیں لیکن اس سب کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپس کے وسائل اور مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا کون سا ایسا فارمولا وضع کیا جاتا ہے جس سے بعد میں شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ عزیزاللہ، پشاور: کیا لویا جرگہ میں شامل مندوبین ایک نمائندہ حکومت کے قیام پر متفق ہوں گے؟ ہارون رشید: یہ اس جرگے کے اختیار سے باہر کی بات ہے۔ یہ جرگہ صرف اور صرف آئین کو حمتی شکل دینے کے لئے بلایا گیا ہے۔ لیاقت علی، پشاور: کیا حامد کرزئی پشتونوں کے صحیح نمائندہ ثابت ہوں گے؟ ہارون رشید: یہ تو وقت ہی بہتر انداز میں بتا سکے گا۔ لیکن فل الحال تو بہت سے لوگوں کے خیال میں صدر کرزئی اور ان کے ساتھی شمالی اتحاد کے غلبے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو شاید پشتونوں کو وہ کسی شکایت کا موقعہ نہ دیں۔ حیدر اورکزئی، پشاور: کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ اس لویا جرگہ میں پشتونوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے؟ ہارون رشید: گذشتہ برس افغان انتقالی حکومت کے قیام کے وقت تو پشتونوں کو مناسب نمائندگی نہ ملنے کی واضع شکایت تھی لیکن اب ایسا کوئی گلہ اب تک اس جرگے کے بارے میں کم از کم سامنے نہیں آیا ہے۔ طارق مسعود کاظمی، پشاور: لویا جرگہ میں صرف سردار شامل ہوتے ہیں۔ کیا عوام کی بھی رائے کی نمائندگی بھی ہے؟ کیا یہ جمہوری طریقہ ہے؟ ہارون رشید: ماضی کے برعکس جب صرف قبائلی سردار ہی جرگوں میں شریک ہوا کرتے تھے اب صورتحال مختلف ہے۔ عوامی جرگے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق کے ماہرین اسے مکمل تو نہیں لیکن نیم جمہوری طریقہ ضرور مانتے ہیں۔ ابو فرحان، کراچی: کیا لویا جرگہ کے بعد افغانستان کے جنگجو سردار مرکزی حکومت کی بات مانیں گے؟ ہارون رشید: اگر اب تک کی تاریخ کو ذہن میں رکھیں تو اس کا بظاہر امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ آئین جیسے مسئلے پر بھی ان کے اور کرزئی کے درمیان میں اختلافات کافی سنگین نوعیت کے ہیں۔ سب کی وفاداریاں اپنی قوم یا علاقوں تک محدود ہیں اور قومی سوچ کا فقدان ہے۔ وقت ہی اس کا حل شاید سوچ میں بتدریج تبدیلی کے ذریعے نکال سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||