| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کا بم: پاکستان کے لئے بُرا شگون ہے
افغانستان میں نئے آئین کی منظوری کے لئے لویا جرگہ کے انعقاد سے قبل اس کے مخالفین بظاہر پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو خراب ثابت کر سکیں۔ سابق افغان حکمراں اسلامی تحریک طالبان کی جانب سے تازہ فلم کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں نئے صدرارتی طرز کے مجوزہ آئین پر غور کے لئے پانچ سو منتخب نمائندوں کا جرگہ کابل میں شروع ہونے کو ہے لیکن اس سے قبل ملک کے مشرقی اور جنوبی حصوں میں ایک مرتبہ پھر طالبان کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہر دوسرے روز کسی حملے یا اغوا کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ساتھ میں طالبان کے بیانات بھی متواتر سامنے آرہے ہیں۔ طالبان کی جانب سے جرگے کی مخالفت بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔ انہوں نے اس آئین سازی کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے افغانوں کو اس سے دور رہنے کے لئے کہا ہے۔ جرگہ سے ہی قبل امریکی اور افغان حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ حکومت مخالفین جرگے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔ لہذا انہوں نے کئی ہفتے قبل ہی کابل شہر کی حد تک حفاظتی اقدامات سخت کر دیے تھے۔ جرگے کے مقام یعنی کابل پولی ٹیکنیک انسٹیٹوٹ کے گرد چوکیاں قائم کی گئی ہیں جبکہ امریکی فوجیوں کی قیادت میں افغان فوجی بھی اس کے گرد مسلسل گھومتے رہتے ہیں۔ ایسے میں کابل میں کسی حملے کے امکانات تو کم ہیں لیکن اصل مسئلہ دارالحکومت سے باہر کے علاقے ہیں۔ اس کا بھی حل امریکیوں نے یہ نکالا ہے کہ انہوں نے اب تک افغانستان میں اپنی سب سے بڑی فوجی کاروائی شروع کر دی ہے۔ ایولانچ نامی اس فوجی کارروائی کا مقصد بقول امریکی حکام لڑائی کو طالبان تک لے کر جانا ہے یعنی ان کو اس بات کا موقعہ ہی نہیں دینا کہ وہ کوئی حملہ کر سکیں۔ لیکن یہ کاروائی گزشتہ ہفتے دو مختلف واقعات میں امریکیوں کے ہاتھوں پندرہ بچوں کی ہلاکت سے دب سی گئی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے بھی اکتوبر میں ایک فرانسیسی کارکن کی ہلاکت کے بعد غیرملکی عملہ کم کر دیا ہے لیکن ساتھ میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کو یقینی نہیں بنایا تو وہ عراق کی طرح افغانستان سے بھی واپسی پر مجبور ہوجائے گی۔ اب بموں کی تیاری سے متعلق اس نئی طالبان فلم کے سامنے آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سابق حکمراں تحریک جرگے سے قبل یہ واضح کرنا چاہتی تھی کہ وہ اب بھی متحرک ہے۔ البتہ اس ویڈیو کا پاکستان میں سامنے آنا مبصرین کے خیال میں پاکستان کے لئے اچھا شگون نہیں۔ ایک دلچسپ اور قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی منحرف اسامہ بن لادن کی فلمیں عرب چینلز کو جبکہ طالبان رہنما ملا محمد عمر اور کرزئی مخالف جنگجو سردار گلبدین حکمت یار کے بیانات زیادہ تر پاکستانی اخبارات کو ہی ارسال کئے گئے ہیں۔ ماضی اور حال دونوں میں اسلام آباد پر طالبان کی حمایت اور مدد کے الزامات لگتے رہے ہیں اور اس فلم سے ان الزامات کو تقویت ملنے کا امکان ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ پہلے ہی پاکستانی خفیہ اداروں پر مکمل طور پر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ساتھ نہ دینے کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||