| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لویاجرگہ: مندوبین کا اجتماع شروع
لویا جرگا میں نئے افغان آئین پر بحث کے لئے سینکڑوں افغان مندوبین دارالحکومت کابل میں جمع ہیں۔ اس موقع پر سخت ترین حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ نیا آئین ملک میں اگلے سال جون میں مجوزہ عام انتخابات کے لئے راہ ہموار کرے گا۔ یہ آئین ایک سو ساٹھ شقوں پر مشتمل ہے۔ ملک بھر سے پانچ سے نمائندے لویا جرگہ میں شرکت کر رہے ہیں۔یہ اجلاس کابل پولی ٹیکنیک کالج کے میدان میں نصب ایک بہت بڑے خیمہ میں ہورہا ہے۔ طالبان نے اجلاس میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم صدر حامد کرزئی نے سنیچر کے روز بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی طاقت ختم ہو چکی ہے۔ کسی بھی ممکنہ حملے یا خلل کو روکنے کے لئے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس قبل ملک بھر میں مختلف حلقے تشکیل دیکر ان نمائندوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔ نئے آئین کا مسودہ اس ماہ کی یکم تاریخ کو پیش کیا گیا تھا۔ اس آئین میں مضبوط صدارتی نظام کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ملک میں پارلیمانی طرز حکومت ہونا چاہئے تاکہ اختیارات کی تقسیم ہو سکے۔ ان کے خیال میں طاقتور صدارتی نظام ملک میں آمریت کا سامان پیدا کر سکتا ہے۔ حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ملک کو ترقی کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں مستحکم سیاسی نظام رائج ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر نئے آئین میں صدارتی کے علاوہ کسی نظام کو لانے کی منظوری دی گئی تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||