| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
لویا جرگہ میں احتجاج
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں نئے آئین کی تشکیل کے لیے ہونے والے لویا جرگہ میں سویت یونین کے خلاف لڑنے والے مجاہدین پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمات چلانے کے مطالبہ پر ہنگامہ آرائی ہو گئی۔ افعان عمائدین کے اس اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور احتجاج اس وقت شروع ہو گیا جب ایک خاتون مندوب نے یہ مطالبہ کیا کہ روسیوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین پر بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات چلائے جانے چاہیں کیونکہ انہوں نے ہی ملک میں جنگ و جدل اور تشدد کے ایک طویل دور کا آغاز کیا ۔ تاہم ایک انتہائی مقتدر رہنما کی مداخلت سے اجلاس میں نظم و نسق بحال کیا گیا۔ افغانستان کے اس نمائندہ اجلاس میں مجاہدین، سابق کمونسٹ ، ترقی پسند اور روایت پسند سب لوگ شامل ہیں۔ بدھ کے روز لویا جرگہ کے کھلے اجلاس میں آئین کی تشکیل کے طریقہ کار پر بحث ہونا تھی۔ ملالی جویا نے کہا کہ جن لوگوں نے کیمونسٹوں کے خلاف انیس سو اسی کی دہائی میں لڑائی شروع کی اور اس کے بعد انیس سو نوے کی دہائی میں آپس میں خانہ جنگی شروع کر دی افغانستان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اس خون ریزی اور تباہی کے ذمہ دار لوگوں کو بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات چلا کر سزائیں دینی چاہئیں۔ بہت سے مندوبین نے اس مطالبہ کا تالیاں بجا کر خیر مقدم کیا لیکن بعد میں کچھ لوگ ہال میں سٹیج کے سامنے جمع ہو گئے۔ انہوں نے کمونسٹ ’مردہ باد‘ کےنعرے لگانے شروع کر دئے۔ انہوں نے چیرمین کی طرف سے کی جانے والی متعدد اپیلوں کی بھی پروہ نہیں کی اور نعرہ بازی کرتے رہے۔ اس ہنگامہ آرائی کو بڑھتے دیکھ کر افغان نیشل آرمی کے کچھ اہلکار بھی سٹیج پر آ گئے۔ تاہم عبدالرب سیاف جو کہ مجاہدین کے سب بااثر رہنما تصور کئے جاتے ہیں مداخلت پر مجبور ہو گئے اور ان کے کہنے پر مجاہدین کے تمام نمائندے جو کے اسٹیج کے سامنے جمع ہو گئے تھے واپس اپنی نشتوں پر جانے پر رضامند ہو گئے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا۔ اس اجلاس کو شروع ہوئے چار دن گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی بامعنی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||