| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سب سے بڑی کارروائی
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوجوں نے افغانستان میں سب سے بڑی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں افغان نیشنل آرمی کے ساتھ ساتھ دوہزار سے زائد امریکی فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی مشرقی اور جنوبی افغانستان میں کی جا رہی ہے اور اس کا بنیادی مقصد ان علاقوں میں چھپے ہوئے طالبان اور القاعدہ جنگجوؤں کو نکال باہر کرنا اور ان کی مسلح کارروائیوں کو روکنا ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں دوبارہ قوت پکڑ رہے ہیں۔
ان علاقوں میں امریکی اور افغان فوجیوں، سرکاری اہلکاروں اور امدادی کارکنوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ درایں اثناء امریکی فوج ابھی تک اس بات کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ عزنی میں ان کی بمباری کا نشانہ بننے والے طالبان رہنماء ملا وزیر ہی تھے۔ اس حملے میں نو بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔ ابتدائی طور پر امریکی فوج نے کہا تھا کہ بمباری سے ہلاک ہونے والے ملا وزیر ہی تھے لیکن اب امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق کرنے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ ہفتے کے روز قندھار میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بی بی سی کے ایک انٹرویو میں قندھار کے سیکیورٹی کے اعلیٰ اہلکار سلیم خان نے ان گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ اس بم دھماکے میں بیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||