| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان بمباری: امریکہ کی تردید
افغان دیہاتیوں نے امریکہ کہ کے اس بیان کی تردید کی ہے کہ نو بچوں کے ساتھ طالبان رہنا بھی ہلاک ہوا تھا۔ امریکہ نے کہا تھا کہ جنوبی غزنی کے ایک دور دراز دیہات ہوتالا پر ہفتے کے روز ہونے والی بمباری میں کا ہدف طالبان رہنما ملا وزیر تھا جو اس بمباری کے دوران ہلاک کیا گیا ہے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ یہ بات انتہائی قابلِ اعتبار شہادتوں کی بنا پر کہی جا رہی ہے۔ تاہم مقامی لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ ملا وزیر اس حملے سے دس روز قبل ہی علاقہ چھوڑ کر جا چکا تھا ۔ صدر حامد کرزئی نے بھی اس واقعہ پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ نے اس بمباری سے نو افغان بچوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان کے لئے اقوم متحدہ کے خصوصی نمائندے لخدر براہیمی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے عدم تحفظ اور خوف کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوجی حکام نے تسلیم کیا تھا کہ انہوں نے ’غلطی‘ سے غزنی کے قریب ایک مکان پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت دس افغان ہلاک ہوگئے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مخبری ہوئی تھی کہ طالبان جنگجو ملا وزیر گاؤں میں موجود ہے اور کسی حملے کی منصوبے بندی کررہا ہے۔ لیکن جب اس مخبری پر مکان پر بمباری کی گئی تو اس مکان میں آباد افغان خاندان اس کا نشانہ بن گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||