| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی طالبان، وکیل سےملاقات
گوانتانامو بے میں مقید ’آسٹریلوی طالبان‘ ڈیوڈ ہِکس نے پہلی مرتبہ اپنے وکیل سے ملاقات کی ہے۔ افغانستان میں گرفتار ہونے کے بعد ڈیوِڈ ہِکس گزشتہ دو برس سے گوانتانامو میں ہیں۔ وہ ان چھ افراد میں شامل ہیں جن پر امریکی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ نا معلوم فوجی اہلکاروں نے بتایا کہ ڈیوِڈ کے وکیل سٹیفن کینی، اور فوج کی طرف سے مقرر وکیل میجر مائکل موری جعمرات کو امریکی فوجی اڈے پر تھے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک سینیئر امریکی سینیٹر نے گوانتانامو کے چھ سو ساٹھ قیدیوں کے معاملات طے کرنے میں ’غیر ضروری تاخیر‘ پر تنقید کی ہے۔ سٹیفن کینی نے جو آسٹریلیا میں سول وکیل ہیں کہا تھا کہ وہ گوانتانامو میں پانچ روز تک قیام کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے موکل سے بات کرنا چاہتے ہیں کہ ’ان کے حقوق کیا ہیں، مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے۔۔۔ ، لیکن انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ دو برس سے ان کے ساتھ تعلق نہ ہونے کی صورت میں ان کا موثر دفاع کس طرح کریں۔ انہوں نے ایک ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ ’آپ کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ انہیں دو برس سے قید میں رکھا گیا ہے۔‘ ’گزشتہ چھ ماہ سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، مجھے ان کی ذہنی حالت کے بارے میں سخت تشویش ہے۔‘ ڈیوِڈ ہِکس کو اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت دینے کے امریکی فیصلے کے بعد اس طرح کے شبہات ظاہر کئے گئے ہیں کہ شاید ہِکس نے سزا میں تخفیف کے بدلے اقبل جرم کرنے کی پیشکش کی ہو۔ تاہم ان کے وکیل کینی نے کہا ہے کہ انہیں ابھی یہ نہیں معلوم کہ کیا ان کے موکل اس طرح کے کسی سمجھوتے پر راضی ہوئے ہیں۔ امریکی حکام نے پہلے ہی کہا ہے کہ اگر ہِکس مجرم ثابت ہوجاتے ہیں تو وہ انہیں سزائے موت دلانے کی کوشش نہیں کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||