| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں
اسلام آباد میں بی بی سی کے دفتر میں بھیجی گئی ایک ویڈیو ٹیپ میں پہلی مرتبہ یہ دکھایا گیا ہے کہ طالبان جنگجو دوبارہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور جنوبی افغانستان میں کھلے عام پھر رہے ہیں۔ ویڈیو میں طالبان کو گھریلو ساخت کے بم بناتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو ترک انجینئر کے طالبان کے ہاتھوں اغوا کے دوران اور بعد میں بنائی گئی ہے۔ اس ویڈیو میں انجینئر کو طالبان کے ہاتھوں اغوا ہوتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ اتحادی فوج نے ابھی کچھ دن پہلے ہی طالبان اور القاعدہ کے خلاف سب سے بڑا آپریشن شروع کیا ہے۔ اس کو آپریشن ایولانشےکہا جا رہا ہے۔
ڈیڑھ گھنٹے کی فلم میں طالبان کی ایک سادہ سی ’بم فیکٹری‘ کو دکھایا گیا جو مٹی کی چھت پر مشتمل تھی۔ فیکٹری کے اندر کئی آدمیوں عام سی گھڑیوں سے ٹائم بم بنا رہے تھے اور ان گھڑیوں کو اڑھائی فٹ لمبے شیلوں سے جوڑ رہے تھے۔ اس کے بعد رات کا منظر دکھایا گیا جس میں جنگجو اپنے کندھوں پر میزائل اٹھا کر کسی نامعلوم مقام کی طرف جا رہے تھے۔ انہوں نے ایک جگہ پر ان کو رکھا، ان کا رخ اپنے ٹارگٹ کی طرف کیا اور اس کے بعد ان کو پتوں اور ٹہنیوں سے ڈھانپ دیا۔
ویڈیو میں ٹیپ ترک انجینئر کے اغوا کا منظر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ویڈیو طالبان کی طرف سے ہی بھیجا گیا ہے۔ انجینئر کو بارہ دن بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ طالبان انتظامیہ کا خاتمہ دو سال قبل امریکہ کی سالاری میں اتحادی فوجوں کے افغانستان پر حملے کے بعد ہوا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے اب تک نہ تو طالبان کے رہنما ملا عمر اتحادیوں کے ہاتھ آئے ہیں اور نہ ہی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||