باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے کہا ہے کہ اُس نے طالبان جنگجوؤوں کی آمد رفت روکنے کے لیے افغان سرحد پر باڑ لگانے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کے لوارا منڈی علاقے میں بیس کلومیٹر تک باڑ لگانے کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ تاہم، افغان حکومت نے اِس باڑ کی افادیت اور محل وقوع پر شک کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ باڑ سے سرحد پر ایک مستقل باؤنڈری بن جائے گی۔ یاد رہے کہ انیس اپریل کو جنوبی وزیرستان سے ملحق افغان سرحد پر لگائی گئی باڑ کو نقصان پہنچانے پر پاک افغان فوج کے درمیان ایک جھڑپ بھی ہوئی تھی۔ میجر جنرل وحید ارشد نے کہا کہ یہ سب سے مشکل مقام ہے کیونکہ یہاں سے زیادہ تر شدت پسند سرحد پار کرتے ہیں۔ افغانستان میں افغان اور نیٹو فوجی اکثر شکایت لگاتے رہتے ہیں کہ ان پر حملے سرحد پار سے ہوتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس سال شدت پسندوں کے حملوں میں 1000 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے باڑ لگانے کے منصوبے کا اعلان اس سال فروری میں کیا تھا۔ | اسی بارے میں پاک افغان سرحد پر جھڑپ19 April, 2007 | پاکستان طالبان افغانستان نہیں جارہے: فوج11 April, 2007 | پاکستان ’افغانستان سے اب نہیں جائیں گے‘12 February, 2007 | پاکستان طالبان سے رعایت، مشرف کا اعتراف02 February, 2007 | پاکستان فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے24 December, 2006 | پاکستان بارودی سرنگوں کی تجویز پر تنقید28 December, 2006 | پاکستان باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||