BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ان گِلے شکووں کا کیا ہوا

کابل امن جرگہ
جرگے کے اختتام پر بظاہر سب ہی خوش نظر آرہے تھے۔
کہتے ہیں خائستہ خان نامی ایک قبائلی کافی عرصے بعد مسافری (ملازمت) کرکے گاؤں لوٹا۔ اُس وقت کسی اہم قومی مسئلے پر جرگہ چل رہا تھا۔ چونکہ جرگہ قومی تھا اس لیے اس میں شرکت بھی سب کا حق بنتا تھا۔

خائستہ خان پہلے روز جرگے کی کارروائی کی بعد گھر آیا تو اس کی بیوی نے استفسار کیا: ’تم نے جرگہ میں کیا رائے دی؟‘ خائستہ خان کا جواب تھا: ’میری رائے کسی نے معلوم ہی نہیں کی۔‘ دوسرے روز بھی میاں بیوی کے درمیان یہی مکالمہ ہوا۔ اس پر بیوی نے مشورہ دیا کہ اب جب جرگے والے کسی بات پر اتفاق کا اعلان کریں تو تم کہنا: ’زئے نہ منم‘ یعنی میں نہیں مانتا۔

’اصل بات
News image
 کوئی کہتا بڑی اچھی پیش رفت ہو رہی ہے، کوئی کہتا کہ اصل بات (طالبان سے متعلق) تو ہو ہی نہیں رہی۔

شوہر نے تیسرے روز ایسا ہی کیا۔ بس پھر کیا تھا، کوئی ایک طرف سے ہاتھ پکڑ رہا ہے اور پوچھ رہا ہے ’بھائی تمہیں کیا اعتراض ہے‘، تو کوئی ٹھوڑی کو ہاتھ لگا رہا اور التماس کر رہا کہ بھائی مان جاؤ، اس ڈرافٹ پر بڑی مشکل سے اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔

پاک افغان مشترکہ امن جرگہ تمام ہوا۔ اختتامی تقریب کے بعد اور دونوں جرگہ کمیشنوں کے سربراہان کی پریس کانفرنس سے پہلے جب ہم صحافی پریس کانفرنس کے لیے مناسب جگہ کی جستجو میں سٹیج کی جانب لپکے تو پاکستانی جرگہ کمیشن کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور افغان جرگہ کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ نمائندے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو شرکاء کی طرف سے ایک ’کامیاب‘ جرگے کے انعقاد پر مبارک باد وصول کرتے پایا۔

بظاہر سب ہی خوش نظر آرہے تھے۔

مجھے یہ اچھنبے کی بات لگی۔ آخر وہ گلے شکوے، وہ شکایتیں جو افغان مجاہدین کو روسی انخلا کے بعد اچانک پاکستان سے پیدا ہوگئی تھیں اور جن میں طالبان حکومت کے قیام، اور پھر رفتہ رفتہ افغانستان کے نوے فی صد سے زیادہ علاقے پر طالبان کے قبضے کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا چلا گیا تھا، یہاں تک کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھی برقرار تھیں، ایک دم سے رفع ہوگئیں۔ آخر جادو کی وہ کونسی چھڑی تھی کہ سب کچھ اتنی خوش اسلوبی سے طے پاگیا۔

کیا کم و بیش سات سو اراکین جرگہ میں ایک بھی خائستہ خان نہیں تھا؟! یہ کیسے قبائل تھے؟

اپنی اپنی توجیح
News image
 سفارشات پر عملدرآمد کے لیے جب الفاظ عملی شکل اختیار کریں گے اور ہر ایک اپنی توضیح پیش کرے گا تو بڑی خرابی یہیں گھات لگائے امن جرگے کو آ لے گی۔

جرگے کے چاروں دن میرا معمول رہا کہ کھانے کے وقفے کے لیے جب شرکاء کو ہوٹل لایا جاتا تو میں کمرۂ ضیافت یا پھر ہوٹل کی راہداری میں آتے جاتے کسی رکن جرگہ سے ان کی خیریت کے ساتھ جرگے کی خیریت بھی پوچھ لیتا تھا۔ کوئی کہتا بڑی اچھی پیش رفت ہو رہی ہے، کوئی کہتا کہ اصل بات (طالبان سے متعلق) تو ہو ہی نہیں رہی۔

البتہ، اس تمام عرصے میں کسی ایک رکن جرگہ نے بھی یہ نہیں کہا کہ خیمے کے اندر کسی موقع پر تیز و تند باتیں ہوئی ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے روز جب میں نے پاکستانی قبائلی علاقے کے بعض مشران سے بات کی تو انہوں نے تمام صورتحال کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی تھی۔

خدشہ تھا کہ جب دونوں جانب کے مشران کا آمنا سامنا ہوگا تو ممکن ہے کہ کچھ کڑوی کسیلی باتیں بھی ہوں۔ مگر ایسی کوئی بات سنائی نہیں دی۔

حالانکہ بعد میں بعض پاکستانی ارکانِ جرگہ نے دبے لفظوں میں مجھ سے جرگے کی قراردادوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو توقعات وہ لے کر آئے تھے وہ پوری نہیں ہوئیں۔ یہ تو ممکن نہیں کہ ان ارکان نے دورانِ جرگہ اپنی رائے کا اظہار نہ کیا ہو۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی بات منوانے کے لیے زیادہ زور نہ لگایا ہو۔

ممکن ہے اسکی وجہ یہ ہو کہ جرگہ کی دوسری نشست میں جب ہر دو طرف سے گیارہ گیارہ عمائدین کو خطاب کی دعوت دی گئی تو تمام ہی مقررین نے بڑی پرمغز اور مؤثر تقاریر کیں۔ ماضی کی تلخیوں کو ایک بڑے پتھر کے نیچے دبا دینے کی بات ہوئی۔ قرآن کی آیات سے لیکر اقبال، خوشحال خان خٹک، جمال الدین افغانی اور دوسرے اکابرین کا ذکر تواتر سے کیا گیا ہے۔ شاید یہ اسی کی برکت تھی کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے۔

یا پھر سفارشات کو سفارتی زبان کا ایسا جامہ پہنایا گیا ہو کہ اکثریت کو بات اپنی اپنی سی لگی ہو۔ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر خدا خیر کرے۔ کیونکہ سفارشات پر عملدرآمد کے لیے جب الفاظ عملی شکل اختیار کریں گے اور ہر ایک اپنی توضیح پیش کرے گا تو بڑی خرابی یہیں گھات لگائے امن جرگے کو آ لے گی۔

ایک دوسری بات جو میں شدت سے محسوس کر رہا ہوں وہ یہ کہ جب فریقین جرگہ مذاکرات کرتے تھک جاتے ہیں تو پھر ’ٹوپک زما قانون‘ کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ اورجب متحارب فریقین اپنی ہی چاپ سے ڈرنے اور راہ چلتے خوف سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتے تو خون کا ابال آپے ہی بیٹھ جاتا ہے۔ پھر واحد راستہ جرگہ ہی رہ جاتا ہے۔

ڈیورینڈ لائن کے اطراف طالبان شورش کو چھ سال ہونے کو آئے ہیں۔ وہ مذاکرات پر آمادہ نہیں۔ ان کے مخالفین نے ایک جرگہ بھی منعقد کرلیا ہے۔ اگر یہ جرگہ واقعی انہیں منانے کی ایک کوشش ہے تو کامیابی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اور اگر یہ ان پر زمین کو مزید تنگ کرنے کی کوشش ہے تو وقت کی بھٹی میں تپی ہوئی کہاوت ہی یاد آتی ہے: ’تنگ آمد بجنگ آمد‘۔

مقررین نے جرگے میں افغان سورماؤں کے تاریخی حوالے دیئے۔ افغانوں کے جذبۂ آزادی اور حریت کا ذکر ہوا۔ آخر کو طالبان نے بھی تو افغان ماؤں کا دودھ پیا ہے۔ افغانوں سے متعلق علامہ اقبال کی شاعری پر ان کا بھی حق بنتا ہوگا؟!

پاک افغان جرگہبدلا بدلا کابل
اور شہر کی سڑکوں پر اکیلا پاکستانی
کابل جرگہ محبوب اور کالی لکیر
پشتون سرحد کو کالی لکیر کہتے ہیں
کابل جرگہ: توقعات
طالبان کی عدم شرکت کے باوجود بعض حلقے پرامید
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد