افغانستان کا فوجی حل نہیں: نیٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو کے سیکریٹری جنرل یاپ دی ہوپ شیفر نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ملک کی ترقی اور تعمیر نو پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لئے صرف عسکری اقدامات ہی کافی نہیں ہیں بلکہ اس کے لئے کچھ اور بھی کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ 35 ہزار سے زائد نیٹو کی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے باوجود افغانستان کے مسئلے کا حتمی حل فوجی طریقے سے نہیں نکالا جاسکتا بلکہ اسکا حتمی حل تعمیر نو، ترقی اور قومی تعمیر ہے، اس حوالے سے بلاشبہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بڑی اہمیت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دوسری بات یہ ہے کہ یہ ایک طویل عمل ہے اور اگر ہم 2001ء سے 2007ء تک افغانستان کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہر شئے اتنی مثالی نہیں ہے لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ ترقی کے عمل میں تعاون اور تعمیر نو میں ہمارا جو تجربہ ہے تو اسکی بناء پر میں یہ کہ سکتا ہوں کہ اس کام میں بہت عرصہ لگے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان، نیٹو اور افغانستان ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ہم دہشتگردی اور انتہا پسندی سے لڑ رہے ہیں اور افغانستان کو دوبارہ ایک ناکام ریاست بننے سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بہت اہم ہے کہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں اور میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اس جنگ میں اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے اور کوئی بھی اگر یہ سمجھے کہ کوئی بھی ایک فریق صورتحال کو بہتر کرسکتا ہے تو یہ غلط ہے۔‘ یاپ دی ہوپ شیفر دو دن کے دورے پر کل پاکستان پہنچے تھے اور نیٹو کے اعلی فوجی سالار جنرل جان کریڈوک بھی ان کے ہمراہ ہیں۔ انہوں نے ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم شوکت عزیز اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام سے ملاقات کے دوران فریقین کے مابین سیاسی مکالمہ، فوجی تعاون اور خفیہ معلومات کے تبادلے سمیت مختلف امور پر گفتگو ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیٹو اور پاکستان کے درمیان سیاسی مذاکرات کے عمل کو باقاعدہ طور پر آگے بڑھایا جائے۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت کچھ ہورہا ہے جہاں پاکستان اور نیٹو کا مشترکہ مفاد وابستہ ہے اس لئے دونوں کے مابین مسلسل سیاسی مشاورت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے پڑوسی ممالک میں استحکام کے لئے سب سے زیادہ اقدامات کیے ہیں اور افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے مقابلے میں دوگنا زیادہ فوج تعینات کی ہے اور تین گنا زیادہ اموات کا بوجھ سہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد پر فوج کی تعداد 80 ہزار سے بڑھاکر 90 ہزار کردی ہے جبکہ چوکیوں کی تعداد بھی 100 سے بڑھاکر110 کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم افغانستان سے بھی اس سے ملتے جلتے اقدامات کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ دونوں فریقین کو دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لئے اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنا چاہئے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||