صدر اخبارات پر چھائے رہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو پاکستانی اخبارات کے صفحات اول پر صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان اور سپریم کورٹ کے روبرو صدر کے عہدوں کے بارے میں سماعت کے موضوعات حاوی رہے۔ ’روزنامہ جنگ‘ کی سرخی ہے: ’صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو ہوگا، کاغذات نامزدگی ستائیس ستمبر کو جمع کرائے جائیں گے ‘۔ اسی اخبار کی سپر لیڈ ہے: ’سپریم کورٹ صدارتی انتخاب کے قواعد میں تبدیلی کا نوٹیفیکیشن منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمیشن کو فریق بنانے کی درخواست مسترد ‘۔ نوائے وقت نے شیڈول کی خبر کو یوں شائع کیا ہے: ’ کاغذات نامزدگی ستائیس ستمبر تک جمع کرائے جاسکیں گے، انتیس ستمبر کو جانچ پڑتال ہوگی، صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو ہوگا ، شیڈول کا اعلان ‘۔ ’روزنامہ ایکسپریس‘ کے الفاظ ہیں:’صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو ہوگا، وکلاء کی طرف سے انتیس ستمبر کو الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا اعلان ‘ دی نیوز نے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے لیے ان الفاظ کا استعمال کیا ہے: ’مشرف کے دوبارہ انتخاب کے لیے چھ اکتوبر کی تاریخ مقرر‘۔‘ اسی خبر کوانگریزی روزنامہ ’ دی نیشن ‘ نے اس انداز میں شائع کیا ہے:’صدر کا انتخاب چھ اکتوبر کو ۔‘ اخبار نے اسی خبر کے ساتھ حزب مخالف کے ردعمل کو دو کالم خبر کا موضوع بنایا’ اپوزیشن نے شیڈول مسترد کردیا جبکہ کیچ لائن ہے کہ سائتیس ستمبر کو استعفے‘۔ ڈیلی ٹائمز نے صدارتی انتخاب کی خبر کو یوں شائع کیا ہے کہ:’ چھ اکتوبر کو صدارتی انتخاب ۔‘ اسی اخبار نے سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کی سرخی یوں شائع کی :’ پارلیمان نے اپنا بوجھ عدالت پر ڈال دیا ہے ‘۔ دی نیشن اور دی نیوز نے سپریم کورٹ ان ریمارکس کو اشاعت کے لیے ان الفاظ کو چنا ’عدالت ایک کمزور پارلیمان کو شیر نہیں بنا سکتی ہے ‘۔ دی نیشن کی ایک خبر ہے کہ :’ مشرف کے سات اکتوبر کو آرمی عہدہ چھوڑنے کا امکان ‘۔
ایکسپریس کی سپرلیڈ ہے :’ لولی لنگڑی پارلیمنٹ کو شیر نہیں بنا سکتے، جس اسمبلی کی مدت ختم ہورہی ہو وہ صدر کیسے منتخب کرسکتی ہے؟ سپریم کورٹ‘۔ نوائے وقت نے صدارتی شیڈول پر حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں اور وکلاء رہنماؤں کے ردعمل کوسپر لیڈ بنایا ہے: ’ستمبر کو الیکشن کمیشن کا گھیراؤ کرینگے، اپنا صدارتی امیدوار لائیں گے، وکلا استعفیْ دھماکہ ہوگا، اےپی ڈی ایم۔‘ روزنامہ جنگ کی ایک خبر ہے کہ صدر پرویز مشرف کے تجویز کنندہ چودھری شہباز ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس افتخار حسین چودھری کی بھائی ہیں جبکہ تائید کنندہ ڈاکٹر خالد رانجھا چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس میں حکومتی وکیل رہے ہیں ‘۔ اسی اخبار میں سابق وزیر اطلاعات اور پیپلز پارٹی کے رہنما خالد کھرل کا بیان شائع ہوا ہے کہ ’ جنرل پرویز بی اے پاس نہیں، صدارتی انتخاب نہیں لڑسکتے، خالد کھرل۔‘ نوائے وقت صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان پر اپنے اداریہ میں لکھتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے صدارتی انتخاب کا شیڈول جاری ہونے کے بعد یہ تو واضح ہوگیا ہے صدر موجودہ اسمبلیوں ہی سے باوردی منتخب ہونا چاہتے ہیں اور یہ کام وہ سات اکتوبر کو اعلیْ فوجی تقرریوں سے قبل مکمل کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ اپنی مرضی سے اپنے فوجی جانشین اور دوسرے عہدیداروں کا تقرر کرسکیں۔ اخبار کہتا ہے اس وقت جبکہ صدر کے انتخاب کا مسئلہ عدالت عظمٰی میں زیر بحث ہے، الیکشن کمیشن کی طرف سے شیڈول کے اعلان سے ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوا ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ اگر چہ سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اور عدالت عظمٰی دو الگ الگ ادارے ہیں جو اپنا کام بیک وقت جاری رکھ سکتے ہیں تاہم بعض حلقے اسے عدالت عظمٰی کو دباؤ میں لانے کا حربہ بھی قرار دے رہے ہیں تاکہ شیڈول آنے کے بعد عدلیہ اس معاملہ کو پارلیمنٹ کے ارکان پر چھوڑ دے کہ وہ خود فیصلہ کریں۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ عدالت عظمیْ کا بھی امتحان ہے کہ ان حالات میں وہ کیا فیصلہ دیتی ہے اور نظریہ ضرورت سے نجات حاصل کرنے کے بعد اعلیْ عدالتوں نے اپنی جو ساکھ بنائی ہے وہ کس طرح برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتی ہے تاہم اصل آزمائش سے سیاسی جماعتیں دو چار ہوئی ہیں وہ یہ معاملہ گلی محلوں میں لے جا کر عوامی دباؤ کے ذریعے جمہوریت کے منافی اس اقدام کا روکتی ہیں یا متفقہ صدارتی امیدوار نامزد کرکے ایک فوجی جرنیل کو ووٹ آؤٹ کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔ اخبار ڈان نے اداریے میں لکھا ہے کہ یہ بات انتہائی مایوس کن ہے کہ صدر نے وردی میں اور سبکدوش ہونے والی اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ جمہوری اداروں کو فروغ دینے میں ہمیں جو ناکامی ہوئی اس کی ہم کو قمیت چکانا پڑی ہے۔ ہمارے کئی مسیحا رہے لیکن ان میں جمہوریت نواز شخصیات بہت کم تھیں۔ |
اسی بارے میں آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل21 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو20 September, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا اعلان20 September, 2007 | پاکستان ’ماورائے آئین کام تو آپ نے خود کیا‘19 September, 2007 | پاکستان صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں19 September, 2007 | پاکستان صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان ’دوبارہ صدر منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا‘18 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||