’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے آئین کے مطابق صدر کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج پارلیمان کے دونوں ایوانوں اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے۔ تمام ایوانوں میں کل اراکین کی تعداد تو گیارہ سو ستر بنتی ہے لیکن صدارتی انتخاب میں ووٹرز کی تعداد اس سے کافی کم ہوگی۔ صدارتی انتخاب کے لیے جو آئینی طریقہ کار دیا گیا ہے اس کے مطابق سینیٹ ( ایک سو اراکین) اور قومی اسمبلی ( تین سو بیالیس ) اراکین کا فی رکن فی ووٹ گنا جائے گا لیکن صوبائی اسمبلیوں میں طریقہ کار مختلف ہے۔ آئین کے مطابق چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سے جس اسمبلی کے اراکین کی تعداد سب سے کم ہوگی دیگر صوبائی اسمبلیوں کے ووٹرز کی تعداد بھی ان کے برابر گنی جائے گی۔اس وقت سب سے کم اراکین بلوچستان اسمبلی کے ہیں، جن کی تعداد پینسٹھ ہے۔ لہٰذا چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹرز کی تعداد فی اسمبلی پینسٹھ ہوگی۔ لیکن آئین کہتا ہے کہ ہر صوبائی اسمبلی میں جتنے ووٹ ڈالے جائیں گے ان کو پینسٹھ سے ضرب دے کر متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کل تعداد سے تقسیم کیا جائے گا اور جو بھی جواب آئے گا وہ ہی صدارتی ووٹ گنے جائیں گے۔ مثال کے طور پر اگر سب سے بڑی صوبائی اسمبلی پنجاب کو ہی لیا جائے تو اس کے اراکین کی کل تعداد تین سو اکہتر بنتی ہے۔ جس میں سے ایک سو اراکین حزب مخالف کے ہیں جبکہ بعض حکومتی اراکین ناراض بھی ہیں۔ اگر پنجاب اسمبلی میں فرض کریں کہ صدر کو ڈھائی سو ووٹ بھی ملتے ہیں تو صدارتی آئینی انتخاب کے فارمولے کے مطابق انہیں پینسٹھ سے ضرب کیا جائے گا تو جواب آئے گا سولہ ہزار دو سو پچاس اور اُسے پنجاب اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد یعنی تین سو اکہتر سے تقسیم کریں گے تو جواب آئے گا تنیتالیس اعشاریہ آٹھ یعنی چوالیس ووٹ گنے جائیں گے۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو صدارتی انتخابی کالج کے کل ووٹرز کی تعداد بظاہر سات سو دو بنتی ہے اور جنرل پرویز مشرف کو سادہ اکثریت یعنی تین سو باون اراکین کی حمایت درکار ہے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس مطلوبہ ووٹرز تو ہیں لیکن اصل مسئلہ ساکھ کا ہے۔ ’تسلسل کے لیے تو ہمارے پاس چون یا چھپن فیصد ووٹ پورے ہیں لیکن کریڈیبلٹی کے لیے پیپلز پارٹی سے ووٹ چاہیے۔ سیاست اب دلچسپ پیراے میں آگئی ہے ۔۔ اصل سیاست تو اب ہوگی ۔۔ اب تک تو ہوائی فائرنگ ہو رہی تھی ۔۔ بینظیر سے بات کرنے کا بھی اب مزہ آئے گا،۔ واضح رہے کہ پاکستان کی تمام حزب مخالف کی جماعتوں نے موجودہ اسمبلیوں سے صدر کے انتخاب کی مخالفت کی ہے اور بیشتر جماعتیں پہلے سے اعلان کرچکی ہیں کہ جس روز جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے اس روز وہ تمام ایوانوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایک ہی پارلیمان سے دو بار صدر کو منتخب کروایا جا رہا ہے۔ جس پر حزب مخالف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جس اسمبلی کی اپنی مدت پانچ برس ہو وہ صدر کو دس برس کے لیے منتخب کردے۔ موجودہ اسمبلیوں سے صدر کا دو بار انتخاب کرانے کا سوال جب سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے وہ اس کا جواب نہیں دینا چاہتے۔ تاہم انہوں نے ایک اور سوال پر بتایا کہ ووٹنگ خفیہ ہوگی اور شفاف بیلٹ باکس استعمال کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق نتائج کا اعلان چھ اکتوبر کو ہی کردیا جائے گا اور نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد قانون کے مطابق چیف جسٹس نو منتخب صدرِ پاکستان سے حلف لیں گے۔ لیکن انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ صدارتی انتخاب کے نتائج کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کا کام ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد جو کچھ کرنا وہ حکومت خود کرے گی۔ | اسی بارے میں صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل16 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب: اخبارات کی سرخیاں16 September, 2007 | پاکستان اے پی ڈی ایم اعلان یا شکست17 September, 2007 | پاکستان یقین دہانی مایوس کن ہے: بینظیر19 September, 2007 | پاکستان صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں19 September, 2007 | پاکستان ’سپریم کورٹ بطخ کو شیر کیسے بنائے‘20 September, 2007 | پاکستان شیڈول: قانونی جنگ یا سیاسی حکمت عملی 20 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||