’بطخ کو شیر نہیں بنایا جاسکتا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اسمبلی کے کمزور جسم میں جان نہیں ڈال سکتی۔ جمعرات کو سماعت کے دوران یہ ریمارکس انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل حامد خان کی اس دلیل کے جواب میں دیئے جس میں انہوں نے موجود اسمبلی کو ایک ’لیم ڈک‘ یا کمزور بطخ قرار دیا تھا جو اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ’اگر یہ ایک لیم ڈک ہے تو ہم اسے شیر کیسے بنا سکتے ہیں۔‘ اس سے پہلے سماعت کے دوران جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ جب کوئی فوجی آتا ہے تو سیاسی جماعتیں اس کا استقبال کرتی ہیں، ہر کوئی جی ایچ کیو سے رجوع کرتا ہے۔ ’لوگ حکومت سے تنگ ہیں تو ان کے نمائندے پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں وہ ان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔‘
جسٹس جاوید اقبال نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہاں قانونی موشگافیوں میں لگے ہیں جبکہ کئی سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ مفاہمت میں لگی ہوئی ہیں۔ جب حامد خان نے بینچ کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی کہ صدر اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں تو جسٹس فلک شیر نے کہا کہ اسمبلی کو چاہیے کہ وہ انہیں منتخب نہ کرے۔ آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران ایک موقع پر جسٹس فلک شیر نے کہا کہ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ آئین کی دفعہ 270 اے اے میں ترمیم کر دے جس کے تحت اس نے صدر کے اقدامات کو تحفظ دیا تھا۔ حامد خان نے امریکی صدر کے عہدے کی مدت کا حوالہ دیا تو بینچ میں شامل جسٹس سردار رضا خان نے کہا کہ یہاں تو پتا ہی نہیں چلتا کب عہدے کی مدت شروع ہوئی اور کب ختم ہو گئی۔
جب حامد خان نے یہ نقطہ اٹھایا کہ صدر مشرف دو بار صدر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں تو جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ پہلی بار جب صدر مشرف نے جسٹس (ریٹائرڈ) محمد رفیق تارڑ کو ہٹا کر صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا تو اس وقت آئین معطل تھا۔ حامد خان نے دلائل دئتے ہوئے کہا کہ صدر نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور انہوں نے آرمی چیف کا عہدہ نہیں چھوڑا جس پر نواز عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر اپنے وعدے سے منحرف ہوئے ہیں تو پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل سینتالیس کے تحت اُن کا مواخذہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے تحت صدر جنرل پرویز مشرف موجودہ مدت تک صدر رہ سکتے ہیں اس کے بعد نہیں۔ نواز عباسی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدارتی انتخاب کے بعد یہ اعتراضات اُٹھائے گئے تو پھر اس کو دیکھیں گے۔
بینچ میں شامل جسٹس سردار رضا خان نے حامد خان سے استفسار کیا کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہے اور کیا ایک اسمبلی جس کی مدت ختم ہو رہی ہے اگلی مدت کے لیے کسی کو صدر منتخب کرسکتی ہے جس پر حامد خان نے کہا کہ ایک ہی اسمبلی ایک ہی شخص کو دو مرتبہ صدر منتخب نہیں کرسکتی لیکن موجودہ اسمبلیاں ایسا ہی کریں گی جو آئین کی روح سے منافی ہوگا۔ سپریم کورٹ نے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔ ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ماورائے آئین کام تو آپ نے خود کیا‘19 September, 2007 | پاکستان صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان ’دوبارہ صدر منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا‘18 September, 2007 | پاکستان ’ماتحت ادارہ آئین میں کیسے ترمیم کر سکتا ہے‘ 17 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||