BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 September, 2007, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ماتحت ادارہ آئین میں کیسے ترمیم کر سکتا ہے‘

صدر جنرل پرویز مشرف
جنرل مشرف موجودہ اسمبلیوں سے ہی دوبارہ صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں
صدر کے دو عہدوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس فلک شیر نے کہا کہ ایک ماتحت ادارہ آئین میں کیسے ترمیم کر سکتا ہے۔

انہوں نے یہ ریمارکس جماعت اسلامی کے وکیل اکرم شیخ کی طرف سے الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن کی طرف توجہ مبذول کرائے جانے پر دیئے جس کے تحت آئندہ صدارتی انتخابات کے سلسلے جنرل پرویز مشرف دو سال کی پابندی سے مستثنیٰٰ ہوں گے۔ اکرم شیخ نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یہ اقدام توہیں عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پیش رفت پر فریقین کو سنیں گے۔ تاہم اس کو بعد میں دیکھا جائے گا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ترمیم کرنے کا اختیار ہے کہ نہیں۔

اکرم شیخ نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے بطور صدر عہدے کی معیاد گیارہ ستمبر کو ختم ہوچکی ہے اس لیے وہ بطور صدر اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق صدارتی انتخابات تیس دن بعد اور ساٹھ دن کے اندر ہونے چاہیں اور اس طرح جنرل پرویز مشرف نہ تو صدارتی انتخانات میں حصہ لے سکتے ہیں اور نہ وہ کاغذات نامزدگی جمع کرواسکتے ہیں۔

اکرم شیخ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ صدر کے عہدے کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ واضح لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا جبکہ فوجیوں سے یہ بھی حلف لیا جاتا ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ پوری قوم کی نظریں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور اسی پر ہی قوم کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو ملک کے سولہ کروڑ عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

سماعت کے دوران جب عدالت نے سینئر وکیل اعتزاز احسن جنہیں عدالت نے ان درخواستوں میں اپنی معاونت کے لیے بلایا تھا پوچھا کہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد وہ اپنے دلائل کتنی دیر میں مکمل کریں گے تو اس پر حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ انہیں اعتزاز احسن کو عدالت میں بطور معاون پیش ہونے پر اعتراض ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف معاندانہ وریہ رکھتے ہیں اور وہ عدالت کی معاونت کی بجائے سیاسی تقرریں کریں گے۔ اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں عدالت میں سنگین بتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور عدالت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

احمد رضا قصوری کے رویئے کے خلاف اعتزاز احسن کمرہ عدالت سے باہر چلے گئے۔ جسٹس بھگوان داس نے احمد رضا قصوری کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اعتزاز احسن عدالت کی معاونت کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ ان آئینی درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔ ان درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی ہے۔


بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے کیس میں بھی کبھی عدالت میں سیاست کو زیر بحث نہیں لائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان دوخواستوں کے حوالے سے عدالت کی معاونت نہیں کرسکتے۔

جب ان سے کہا گیا کہ اس نو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ وہ ان آئینی درخواستوں کے حوالے سے عدالت کی معاونت کریں گے تو انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں انہیں ابھی تک عدالتی احکامات موصول نہیں ہوئے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ کے نو رکنی ایک بینچ نے صدر کے دو عہدوں سے متعلق پٹیشنوں کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

فل کورٹ تشکیل دینے سے متعلق درخواستیں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دائر کی تھیں۔

حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور صدر جنرل مشرف کی نمائندگی کرنے والے سینئر قانوان دان شریف الدین پیرزادہ نے ان درخواستوں کی مخالفت کی۔

اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے بارے میں آئینی درخواستوں کی سماعت نو رکنی بینچ کے سامنے ہی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد اور عمران خان کو بینچ کے بارے میں اعتراض اس وقت کرنا چاہیے تھا جب چھ ستمبر کو اس کی تشکیل ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار پانچ میں صدر کے دو عہدوں کے بارے پاکستان لائرز فورم کی آئینی درخواست کی سماعت ایک پانچ رکنی بینچ نے کی تھی جبکہ سن دو ہزار دو میں قاضی حسین احمد کی اسی نوعیت کی پٹیشن کی سماعت ایک نو رکنی بینچ کے سامنے ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کسی فریق نے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی درخواست نہیں کی تھی۔

فل کورٹ بینچ کی تشکیل کے لیے دائر کی گئی درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے عمران خان کے وکیل حامد خان نے عاصمہ جہانگیر کیس سے لیکر چیف جسٹس کیس تک دس ایسے مقدمات کا حوالہ دیا جن کی سماعت فل کورٹ بینچ کے سامنے ہوئی تھی۔


قاضی حسین احمد کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ انہیں نو رکنی بینچ میں شامل سپریم کورٹ کے ججوں کی اہلیت پر کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فل کورٹ بینچ کی تشکیل اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ صدر کے دو عہدوں سے متعلق آئینی درخواستیں ملک کے سولہ کروڑ عوام کے جمہوری حقوق سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان آئینی درخواستوں پر فیصلے سے ظاہر ہو کہ پوری سپریم کورٹ اس فیصلے میں شامل ہے۔

پاکستان لائرز فورم کے سربراہ اے کے ڈوگر نے کہا کہ نو رکنی بینچ تشکیل دیتے ہوئے چیف جسٹس نے اپنے انتظامی اختیارات استعمال کیے ہیں اور یہ ان کی طرف سے دیا جانے والا کوئی عدالتی فیصلہ نہیں ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں پٹیشنز میں جماعتی اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی آئینی درخواستیں شامل ہیں۔

ان درخواستوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے، سترہویں ترمیم اور آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وردی میں حصہ لینے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نورکنی بینچ کررہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس چوہدری محمد اعجاز شامل ہیں۔

فائل فوٹو صدر کا انتخاب
اخبارات کی سرخیاں
جلسے کی’تیاری‘
جلسہ صدرِ مملکت کا، گاڑیاں عوام کی بند
مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
صدر مشرفصدر کے اختیارات
افسران کی ترقیوں میں قواعد کی خلاف ورزیاں
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان
16 September, 2007 | پاکستان
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد