BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ماورائے آئین کام تو آپ نے خود کیا‘

صدر کے دوبارہ انتخاب کے خلاف ان آئینی درخواستوں کی سماعت نو رکنی بنچ کر رہا ہے
صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نورکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ صدر مشرف سے معاہدہ کر کے سیاسی جماعتوں نے خود ماورائے آئین کام کیا تھا۔

بدھ کو سماعت کے دوران یہ ریمارکس انہوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل حامد خان کی اس دلیل کے جواب میں دیئے جس میں انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف پر وعدہ خلافی کا الزام لگایا تھا۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ’اس وقت آپ صدر پر وعدہ خلافی کا الزام لگا رہے ہیں لیکن صدر سے معاہدہ کر کے آئین سے ماورا کام تو آپ لوگوں نے خود کیا تھا۔‘

اس پر بینچ میں شامل جسٹس فلک شیر نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’جب صدر مشرف اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اس وقت تو ٹھیک تھا، اس وقت تو آپ نے اعتراض نہیں کیا۔‘

ایس ایم ظفر کی کتاب کا حوالہ
 صدر کی فوجی وردی کو تحفظ دینے والی آئینی کی دفعہ 63 ون ڈی کو اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک نافذ العمل رہنا تھا لیکن صدر مشرف نے قوم سے کیے گئے وعدہ کو توڑا ہے۔
حامد خان

اس سے پہلے دلائل دیتے ہوئے حامد خان نے صدر جنرل مشرف کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل مشرف گیارہ اگست سن انیس سو تینتالیس کو پیدا ہوئے اور انہوں نے سن انیس سو اکسٹھ کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخلہ لیا جس کے نتیجے میں انہیں سن انیس سو چونسٹھ میں آرمی میں کمیشن ملی۔

حامد خان کے مطابق صدر مشرف کو سن انیس سو پچانوے میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ سات اکتوبر سن انیس سو اٹھانوے کو وہ فل جنرل بنے۔ انہوں نے کہا کہ چھ اکتوبر سن دو ہزار ایک کو آرمی چیف کی حیثیت سے ان کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

حامد خان نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم کی حیثیت سے بھی جنرل مشرف کو دس اگست دو ہزار تین کو ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہو جانا چاہیے تھا۔

عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور اسے کسی ایک جنرل کے نام نہیں لکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں تمام آرمی چیف تین سال تک فوج کی سربراہی کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے سوائے جنرل ضیاءالحق اور جنرل مشرف کے جنہوں نے ملک کے سیاسی معاملات کو ہاتھ میں لے لیا۔

آئینی درخواستوں پر سماعت
 آرمی چیف کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور اسے کسی ایک جنرل کے نام نہیں لکھا جا سکتا
عمران خان کے وکیل حامد خان

حامد خان نے کہا کہ صدر مشرف نے اپنے دورِ اقتدار میں آئین کی انتیس دفعات میں ترامیم کیں جن میں صدر کو قومی اسمبلی کو برخاست کرنے کا اختیار دینے والی دفعہ 58 ٹو بی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترامیم صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئیں کیونکہ ان ترامیم کے تحت یہ کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف دو عہدے رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ سہولت صرف صدر مشرف کو دی گئی ہے تو مستقبل میں منتخب ہونے والے صدر دو عہدے کیوں نہیں رکھ سکتے۔حامد خان نے کہا کہ آئین میں کی گئی یہ ترمیم آئین سے متصادم ہے لہذا اس کو ختم کردیا جائے۔

سردار رضا خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ ترمیم لائی گئی تھی تو اس کو قومی اسمبلی میں پڑھا گیا ہو گا لیکن اُس وقت کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔

حامد خان نے کہا کہ ایک شخص کے پاس دو عہدے رکھنے کے لیے کوئی ٹھوس وجوہات ہونی چاہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے صدر جارج واشنگٹن جنہیں فادر آف دی نیشن کہا جاتا ہے انہوں نے بھی تیسری مرتبہ صدر بننے سے انکار کردیا جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایسا کونسا کارنامہ انجام دیا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ صدارت کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروا رہے ہیں۔

سید شریف الدین پیرزادہ صدر جنرل پرویز مشرف کی پیروی کر رہے ہیں

نو رکنی بینچ میں شامل ایک اور جج جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پرویز مشرف نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کروائےتووہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ وہ صدر کے امید وار ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل نے صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ کے بیان کا حوالہ دیا جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف آئندہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ سروسز آف پاکستان کے زمرے میں آتا ہے اور منگل کو سماعت کے دوران پرویز مشرف نے جو بیان عدالت میں جمع کروایا ہے اُس کے مطابق اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ منتخب نہ ہوئے تو وہ بطور سرکاری ملازم اپنے فرائص ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی مدت ملازمت ختم ہوچکی ہے اس لیے کسی کو بھی آئین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے ایس ایم ظفر کی کتاب سے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر کی فوجی وردی کو تحفظ دینے والی آئینی کی دفعہ 63 ون ڈی کو اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک نافذ العمل رہنا تھا لیکن صدر مشرف نے قوم سے کیے گئے وعدہ کو توڑا ہے۔

اس موقع پر جب بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے پوچھا کہ وہ کونسا ایسا فورم ہے جو صدر کی وعدہ خلافی پر کوئی اقدام کر سکتا ہے تو حامد خان نے کہا کہ اگر ماتحت حلف توڑے تو ادارے کا سربراہ اس کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے لیکن اگر ملک کا سربراہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے تو اس کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے کی مجاز فورم سپریم کورٹ ہی ہے۔

حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ صدارتی انتخابات کے سلسلے میں رولز میں ترامیم کی ہیں جو کہ ترامیم صدر جنرل پرویز مشرف کے انتخاب کو آسان بنانے کے لیے کی گئی ہیں جبکہ ابھی تو صدر کے دو عہدوں کے متعلق درخواستوں کا فیصلہ سپریم کورٹ سے آنا باقی ہے ۔ حامد خان جمعرات کو بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔

سپریم کورٹ نے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ کر رہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔

بدھ کو سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے سنئیر وکیل علی احمد کرد عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پیر کے روز حکومتی وکیل احمد رضا قصوری نے سنیئر وکیل اعتزاز احسن کے خلاف جو ریمارکس دئیے تھے اس پر عدالت احمد رضا قصوری کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے جس پر عدالت نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

اسی بارے میں
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد