BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 September, 2007, 03:28 GMT 08:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یقین دہانی مایوس کن ہے: بینظیر
بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف
لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ اب مستعفی نہیں ہوتے تو وہ اپنا ارادہ پھر سے بدل سکتے ہیں: بے نظیر
پاکستان میں حزب مخالف کی ایک جماعت پیپلز پارٹی کی قائد بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے اس یقین دہانی پر انہیں مایوسی ہوئی ہے کہ وہ فوج سے ریٹائر صدارت کے عہدے پر دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ہوں گے۔

بےنظیر بھٹو نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میرا تاثر یہ تھا کہ پرویز مشرف صدارت کے عہدے کے انتخاب سے پہلے ہی فوج کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیں گے، تو اب اس وعدے سے مجھے مایوسی ہوئی ہے اور میرا خیال ہے کہ یہ وعدہ کافی نہیں ہے‘۔

اس سے پہلے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی کے پروگرام نیوز آور کے انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر مشرف بار بار کہہ چکے ہیں کہ آئین کی رو سے وہ دو عہدے نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ اب سپریم کورٹ میں اسی بات کی توثیق کردی گئی ہے۔

تصادم کی بات
 اگر جنرل مشرف جمہوریت کی طرف بڑھتے ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات لینے کا وعدہ کرتے ہیں، تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو میں ان سے بات چیت کر سکتی ہیں۔ اگر وہ ہماری بات نہیں سنتے اور اپنی آمریت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہاں پھر تصادم ہوگا۔
بے نظیر
طارق عظیم نے کہا کہ صدر کے گزشتہ بیان کو واضح طور پر، کسی شک و شبہے سے بالا ہو کر، سپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا ہے۔ ’وہ جب فوج کو ترک کردیں گے تو جنرل ریٹائرڈ مشرف ہو جائیں گے۔‘

بے نظیر بھٹو نے، اس سوال کے جواب میں کہ پرویز مشرف کی وردی تو چند ہفتوں میں اتر جائے گی تو پھر انتظار کیوں نہیں کر لیا جاتا جب کئی برسوں تک ان کی وردی کو برداشت کیا گیا گیا ہے، کہا کہ ’ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ چند دنوں سے کیا فرق پڑے گا، لیکن ہمیں ان کے پچھلے وعدے یاد آتے ہیں جو انہوں نے مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے سے کیے تھے کہ وہ سن دو ہزار چار میں یونیفارم اتار کر فوجی عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ مگر جب سن دو ہزار چار آیا تو انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ لہذا اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر وہ اب مستعفی نہیں ہوتے تو وہ اپنا ارادہ پھر سے بدل سکتے ہیں‘۔

بے نظیر بھٹو سے سوال کیا گیا کہ جب ان کی حکومت سے کوئی ڈیل بھی نہیں ہوئی ہے اور وہ صدر جنرل مشرف کی وردی اتارنے کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کر رہی ہیں تو کیا وہ اٹھارہ اکتوبر کو واپس جائیں گی اور ایسی صورت میں وہ تصادم کی سیاست کی طرف تو نہیں بڑھ رہی۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہر حال میں پاکستان جائیں گی چاہے کوئی معاہدہ ہو یا نہ ہو یہاں تک کے ’اس کا مطلب تصادم ہی کیوں نہ ہو میں واپس جاؤں گی‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر جنرل مشرف جمہوریت کی طرف بڑھتے ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات لینے کا وعدہ کرتے ہیں، تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو وہ ان سے بات چیت کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان کی بات نہیں سنتے اور اپنی آمریت کو مستحک کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہاں پھر تصادم ہوگا۔

اسی بارے میں
بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک
14 September, 2007 | پاکستان
’نو ڈیل‘ کی افواہوں کا قتل
15 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد