BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف اچھے، بے نظیر بری‘

بے نظیر بھٹو کا ایک مضمون بھی وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوا تھا
امریکہ میں ایک یہودی تاریخ دان اور مصنف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اگر بے نظیر بھٹو دوبارہ اقتدار میں واپس آتی ہیں تو ملک بدامنی کا شکار ہو جائے گا اور طالبان طرز پر بنیاد پرستوں کی بغاوت کے راستے کھل جائیں گے۔

اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ میں شائع ہونے والے بے نظیر بھٹو کے ایک مضمون کے جواب میں آرتھر ہرمن نے یہ خط تحریرکیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران اس اخبار نے پاکستان کے بارے میں کئی مضامین شائع کیے ہیں جن میں نجم سیٹھی اور زاہد حسین کے مضامین بھی شامل ہیں۔

ہرمن چار کتابوں کے مصنف ہیں اور ان کی ایک کتاب جس میں وہ گاندھی اور چرچل کا موزانہ کر رہے ہیں زیرِ طباعت ہے۔ وہ ایک قدامت پسند مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

وال اسٹریٹ میں شائع ہونے والے ایڈیٹر کے نام ایک خط میں آرتھر ہرمن نے بے نظیر بھٹوکی اس دلیل کو مضحکہ خیز بتایا ہے کہ پاکستانیوں کی دو تہائی اکثریت مذہبی طور پر معتدل خیالات کی حامل ہے۔

 ہرمن نے کہا کہ انیس سو نوے کی دہائی میں ان کے دورِ اقتدار کے دوران کراچی کی سڑکوں پر ہر روز درجنوں افراد ہلاک کیے جاتے تھے۔ ہرمن کے مطابق جنرل مشرف کے خلاف حالیہ نفرت کی لہر کا تعلق ان کے انداز حکومت سے نہیں بلکہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ ایک مہاجر کے گھر پیدا ہوئے جو انیس سو سینتالیس میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔
بے نظیر بھٹو کے گزشتہ دو ادوار کی یاد دلاتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ مِس بھٹو جنوبی مشرقی ایشیا کی تاریخ میں سب سے نااہل حکمران ثابت ہوئیں اور انہیں نومبر چھیانوے میں بدعنوانی، اقرباء پروری اور بدانتظامی کی بنیادوں پر برطرف کر دیا گیا۔

ہرمن نے کہا کہ انیس سو نوے کی دہائی میں ان کے دورِ اقتدار کے دوران کراچی کی سڑکوں پر ہر روز درجنوں افراد ہلاک کیے جاتے تھے۔ ہرمن کے مطابق جنرل مشرف کے خلاف حالیہ نفرت کی لہر کا تعلق ان کے انداز حکومت سے نہیں بلکہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ ایک مہاجر کے گھر پیدا ہوئے جو انیس سو سینتالیس میں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔

ہرمن نے لکھا کہ بےنظیر نے انیس سو پچانوے میں ایک انٹرویو میں مہاجروں کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے اور انہوں نے یہ الفاظ بھی لکھے۔ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر جیسی مغرب میں تعلیم یافتہ عورت کے لیے بھی ایک مہاجر کو جنرل کے عہدے پر دیکھنا نا قابل برداشت ہے۔ ان کو اقتدار سے ہٹانے کا ہر گز مقصد ملک میں جمہوریت کو بحال کرنا نہیں۔

انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ جنرل مشرف نہ صرف وہ امریکہ کے ایک اچھے اتحادی ہیں بلکہ وہ پاکستان کے لیے بھی بہت سود مند ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل مشرف نے ذاتی خطرات مول لیتے ہوئے ملک میں موجود جہادی قوتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی اور بنیاد پرستی کو فروغ دینے والے مدرسوں کی بیرونی امداد بند کی۔

ہرمن نے جنرل مشرف کی اقتصادی ترقی کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان میں فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور کشمیر کے تنازع پر بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔

بینظیر بھٹوگرفتاری کا ڈر نہیں
’اگرگرفتار بھی کریں پھر بھی واپس جاؤں گی‘
بے نظیر نواز معاہدہویڈیو کوریج
بے نظیر نواز لندن ملاقات
بھٹو فوج اور بھٹو کا خوف
جرنیلوں کے مکانوں میں گھرا بھٹو پھانسی گھاٹ
بھٹوبغدادی انصاف و بھٹو
حکمرانوں کے عدالتی قتل پر حسن مجتبی کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد