BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 07:43 GMT 12:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل

پاکستانی فوج
فوج کے نئے سربراہ کی تقرری کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا: جنرل وحید ارشد
پاکستانی فوج میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے چھ میجر جنرلز کو ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔

یہ اعلان پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعہ کی صبح ایک مختصر سے اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔

یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ملک میں صدارتی انتخاب کا اعلان ہوچکا ہے اور فوج کے نئے سربراہ کی تقرری بھی کسی وقت متوقع ہے۔

ایک اہم تبدیلی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ نئے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج کی تقرری قرار دی جارہی ہے۔

جنرل کیانی صدر مشرف کی اس تین رکنی ٹیم میں شامل رہے ہیں جو سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے مذاکرات کرتی رہی ہے۔

ملٹری سیکرٹری سے آئی ایس آئی
 میجر جنرل ندیم تاج اس سے قبل ملٹری اکیڈیمی کے کمانڈنٹ رہ چکے ہیں۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں نواز شریف حکومت کی برطرفی کے وقت وہ جنرل مشرف کے ملٹری سیکرٹری تھے

میجر جنرل ندیم تاج اس سے قبل ملٹری اکیڈیمی کے کمانڈنٹ رہ چکے ہیں۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں نواز شریف حکومت کی برطرفی کے وقت وہ جنرل مشرف کے ملٹری سیکرٹری تھے۔

اس کے علاوہ ترقی پانے والوں میں میجر جنرل محسن کمال شامل ہیں جنہیں ترقی دے کر کور کمانڈر راولپنڈی، میجر جنرل جاوید ضیاء کو جنرل ہیڈ کواٹرز، میجر جنرل شجاعت ڈار کو اینٹی نارکاٹکس فورس سربراہ، میجر جنرل محمد اصغر کو نیشنل یونیوسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی اور میجر جنرل جمیل حیدر کی جنرل ہیڈکواٹرز میں تعیناتی ہے۔

نئی تقرریوں کے نتیجے میں ان عہدوں پر پہلے سے فائز اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے بارے میں اعلامیہ میں کچھ نہیں کہا گیا کہ انہیں کہاں تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں جب میجر جنرل وحید ارشد سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تقرریاں ابھی طے نہیں پائی ہیں۔

نئے فوجی سربراہ کی تقرری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تقرری کب عمل میں آئے گی۔

یہ تبدیلیاں آئی ایس پی آر کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آئی ہیں جس میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو فوج میں ترقیوں اور تبادلوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔

شراکت اقتدار کے مذاکرات کار
 جنرل کیانی صدر مشرف کی اس تین رکنی ٹیم میں شامل رہے ہیں جو سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے ساتھ شراکت اقتدار کے لیے مذاکرات کرتی رہی ہے

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ فوج میں تبدیلیاں اور ترقیاں پہلے سے طے شدہ طریقۂ کار کے تحت ہوتی ہیں جوکہ ایک معمول کی کارروائی ہے۔

جنرل پرویز مشرف کو وردی اتارنے کے بعد چیف آف آرمی سٹاف کے علاوہ وائس چیف آف آرمی سٹاف اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عنقریب خالی ہونے والے عہدوں پر بھی تقرریاں کرنی ہیں۔

وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل احسن سلیم حیات اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل احسان الحق سات اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

’ کاروباری مفادات‘
فوج پرعائشہ صدیقہ کی کتاب سے اقتباسات
 ڈاکٹر عائشہ صدیقہ’فوج کے مفادات‘
ڈاکٹر عائشہ کی کتاب سے اقتباسات، آخری قسط
تعلیم فوج کےحوالے
سرکاری سکولوں کی بہتری پاک فوج کے ذمے
اسلام آباد میں فوجاسلام آباد میں فوج
دارالحکومت میں فوج نے پوزیشنیں سنبھال لیں
یونیفارمفوج اور پاکستان
اگلے ساٹھ سال میں رول بیک ہو گا یا نہیں؟
’تاریخی چیلنج‘
پاکستانی فوج مخالفین کی زد میں
اسی بارے میں
’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘
20 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد