BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 September, 2007, 13:43 GMT 18:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حلف سے پہلے وردی اتار دوں گا‘
صدر جنرل پرویز مشرف
جنرل مشرف صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے: شریف الدین پیرزادہ
سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے مؤکل دوبارہ صدر بن گئے تو وہ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیں گے۔

شریف الدین پیرزادہ نے یہ بات سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔‘

صدر کے سینئر ترین وکیل نے یہ بات جسٹس بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے سامنے منگل کی صبح ان پیٹیشنز کی سماعت کے دوران کہی جن میں صدر کے دو عہدے رکھنے، آئین میں سترہویں ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ان آئینی درخواستیں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔

News image
 ایک جمہوری ملک میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کا صدر آرمی چیف کا عہدے بھی اپنے پاس رکھے
اکرم شیخ

شریف الدین پیرزادہ کے بیان کے بعد جماعتِ اسلامی کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل جارے رکھے اور کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کا صدر آرمی چیف کا عہدے بھی اپنے پاس رکھے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اور ایم ایم اے کے مابین ہونے والے معاہدے کو آئینی شکل نہیں دی گئی تھی۔

اکرم شیخ نے کہا کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ پوری طرح لاگو ہے اور کسی شخص کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئین کی دفعہ تریسٹھ اے صدر مشرف کو تحفظ دیتی ہے اور اسے بھی آئینی کی روح سے متصادم ہونے کی وجہ سے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی موجودہ میعاد گیارہ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گیارہ ستمبر کو گزر چکی ہے۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نورکنی بینچ کررہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس چوہدری محمد اعجاز شامل ہیں۔

صدر مشرفوردی اور انتخاب
پہلے صدرارتی انتخاب پھر وردی کی بات
فائل فوٹو صدر کا انتخاب
اخبارات کی سرخیاں
جلسے کی’تیاری‘
جلسہ صدرِ مملکت کا، گاڑیاں عوام کی بند
مشرف اور پرویز الہٰیوردی مخالِف دھڑا
’مشرف کی مشکلات کا حل ڈیل میں‘
صدر مشرفصدر کے اختیارات
افسران کی ترقیوں میں قواعد کی خلاف ورزیاں
اسی بارے میں
صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل
16 September, 2007 | پاکستان
اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان
16 September, 2007 | پاکستان
مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے
14 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد