وکلاء کا احتجاج، عدالتی بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے مختلف شہروں میں وکلاء نے جمعرات کے روز صدر پرویز مشرف کی طرف سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ سرحد پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالطیف آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے موقع پر جمعرات کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبہ سرحد کے وکلاء نے بھی ہائی کورٹ اور دیگر ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ پشاور میں ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں ڈسٹرکٹ بار کونسل اور ہائی کورٹ بار کونسل کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیاجس میں درجنوں وکلاء نے شرکت کی۔اجلاس میں متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ عبدالطیف آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ایک قرار دادا میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلی اکرم خان درانی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلدگورنر سرحد سے اسمبلی توڑنے کی سفارش کریں تاکہ تحلیل ہونے کی صورت میں صدارتی انتخابات میں وفاق کی ایک اکائی کی عدم موجودگی میں صدارتی حلقہ انتخاب نامکمل رہ جائے۔
وکلاء کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انتیس ستمبر کو صدارتی انتخابات کے لیے جمع کرائی گئیں درخواستوں کی جانچ پڑتال کے موقع پر صوبے بھر میں وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے جبکہ چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات کے موقع پر اراکین اسمبلی کو اپنی رائے دہی استعمال کرنے سے روکنے کے لیےصوبے بھر کے وکلاء پشاور میں سرحد اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے۔ اجلاس کے بعد وکلاء نے احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کی بجائے ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر ہی جنرل پرویز مشرف کیخلاف اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔ہائی کورٹ کی عمارت کے ارد گرد پہلی مرتبہ پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔ دوسری طرف جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکنے کے لئے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو پشاور میں منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کا انعقاد دوپہردو بجے پاکستان مسلم لیگ( ن ) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اقبال ظفرجھگڑا کی رہائش پر ہورہا ہے جس میں حزب اختلاف کے قائدین راجہ ظفرالحق، مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، اسفند یار ولی خان، عمران خان اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ دیگر شرکت کررہے ہیں۔ اس اجلاس کی خاص بات قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کی شرکت ہے جو چند روز قبل ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اسلام آباد میں اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے اور بعد میں انہوں نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حوالے سے اتحاد کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اجلاس میں جنرل پرویزمشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حوالے سے اسمبلیوں سے استعفے دینے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ایم ایم اے میں شامل جمیعت علماء اسلام کے ایک اہم رہنماء نے بی بی سی کو بتایا کہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن اے پی ڈی ایم کے قائدین کو اسمبلیوں باالخصوص صوبائی اسمبلیوں سے استعفی دینے اور صوبہ سرحد کی اسمبلی کو تحلیل نہ کرنے پر قائل کرنے کی سر توڑ کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے اجلاس سے ایک روز قبل اے پی ڈی ایم کے کئی اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں تا کہ اجلاس سے قبل انہیں اعتماد میں لیا جاسکے تاہم مذکورہ رہنماء کے بقول انہیں اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ اجلاس میں صدارتی امیدوار جسٹس( ر ) وجیہہ الدین کی اے پی ڈی ایم کے چند قائدین کی جانب سے حمایت کرنے پر بھی شدید بحث ہونے کی توقع ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن قاضی حسین احمد اور عمران خان کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی حمایت کرنے کے بیانات پر خاصے برہم دکھائی دیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اے پی ڈی ایم کو اعتماد میں لیے بغیر انکی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔
وکلاء نے جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے خلاف یوم سیاہ منایا، عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے۔ لاہور میں ہمارے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق بار ایسوسی ایشنوں کے دفاتر پرسیاہ پرچم لہرائے اور بارایسوسی ایشنوں میں احتجاجی اجلاس ہوئے۔ لاہور کے علاوہ ملتان، فیصل آباد اور گوجرنوالہ سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی وکلاء نے جلوس نکالے۔ لاہورمیں وکلاء نے مسجدشہدا (ریگل چوک تک ) تک پرامن جلوس نکالا۔ وکلاء کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پرانسانی حقوق اور سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے علاوہ لیبر پارٹی ، خاکسار تحریک کے رہنماؤں نے بھی اس میں شرکت کی۔
مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ’گو مشرف گو‘ ، ’آمریت کے خاتمے تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘،’ زندہ ہیں وکلاء زندہ ہیں‘۔ مظاہرین نے صدر جنرل مشرف کے پتلے کو بھی نذر آتش کیا ۔اس موقع پر صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن احسن بھون اور لاہور بار ایوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ سمیت دیگر وکلاء رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ وکلاء کے جلوس کی وجہ سے مال روڈ پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی اور مال روڈ کی طرف آنے والے راستوں کو رکاٹیں کھڑی کر کے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ احسن بھون نے کہا کہ وکلاء کی جدوجہد آمریت کے خاتمہ تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء عدلیہ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہے کہ کسی کو وردی میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا حق نہیں ہے۔ سید محمد شاہ نے حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو ختم کر کے ملک میں آمریت کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ وکلاء ملک سے آمریت کو نجات دلائیں گے۔ وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کیا جس کی وجہ مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔ ملتان میں وکلاء نےاحتجاجی اجلاس کے بعد جلوس نکالا اور صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کو نظر آتش کیا۔ فیصل آباد میں وکلاء نے جلوس میں سیاہ پرچموں کے ساتھ حصہ لیا اور صدر جنرل مشرف کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔جلوس میں شریک وکلاء نے جسٹس(ر) وجیہہ الدین احمد کی بڑی بڑی تصاویر اٹھا رکھیں گے۔ مظاہرین نےوفاقی وزراء وصی ظفر اور احمد رضاقصوری کی بھی تصاویر اٹھا رکھیں تھی اور ان کے چہروں پر سیاہی پھیری ہوئی تھی۔ گوجرنوالہ میں وکلاء نے بارایسوسی ایشن کے عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا اور احتجاجی اجلاس کے بعد جلوس نکالا۔ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں ۔
کراچی میں وردی میں صدارتی انتخاب کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سمیت تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ کراچی میں ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق صبح گیارہ بجے کے بعد وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر کے جنرل باڈی کے اجلاس منعقد کیے جس میں وکلاء رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ آخری سہارے کے طور پر جدوجہد کر رہے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ابرار حسن کا کہنا تھا کہ ’ہماری اپیل اس ملک کے سولہ کروڑ عوام سے ہے کہ وہ اٹھ جائیں اور اپنے ان لوگوں کا محاسبہ کیجیے جو اس الیکشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے، ہماری اپیل سینیٹ، نیشنل اسمبلی کے ممبران ، یا صوبائی اسمبلی کے ممبران سے نہیں ہے اس لیے کے ہمیں معلوم ہے کہ اقتدار کی اس بندر بانٹ میں ہرکوئی حصہ رکھتا ہے‘۔ ابرار حسن کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ جنرل مشرف کے تین حیثیتوں میں فارم نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں ’جن میں سے ایک پر تحریر ہے پرویز مشرف، دوسرے پر تحریر ہے ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف اور تیسرے پر لکھا ہے جنرل پرویز مشرف اب اتنے متنازعہ فارم نامزدگی آئے ہیں تو اس کی پیچھے ایک ہی خواہش نظر آتی ہے کہ ہر صورت میں اقتدار میں آنا ہے‘۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج رشید اے رضوی کا کہنا تھا کہ اس ملک میں کچھ لوگ ہیں جو آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں وہ صرف وکلاء ہیں جو اپنی جدوجہد کر رہے ہیں۔ رشید رضوی کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک نہ ہوتی تو صدر پرویز مشرف بلا مقابلہ آ جاتے، آج بھی اسلام آباد میں کسی سیاسی جماعت کے لیے نہیں صرف وکلاء کے لیے کرفیو جیسا سما کیا ہوا ہے۔ | اسی بارے میں جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج24 September, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا20 July, 2007 | پاکستان پاکستان بھر کے وکلاء کا یومِ تشکر21 July, 2007 | پاکستان مختلف شہروں میں وکلاء کا احتجاج11 September, 2007 | پاکستان وکلاءعدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے09 September, 2007 | پاکستان مبینہ ڈِیل، پی پی کے وکلاء کا امتحان02 August, 2007 | پاکستان وکلاء کا احتجاج اور عدالتی بائیکاٹ 24 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||