BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 05:36 GMT 10:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز

اسلام آباد انتظامیہ نے الیکشن کمیشن اور اہم عمارتوں کے ارد گرد سکیورٹی بڑھا رکھی ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہفتے کو صدارتی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر وکلاء سیاسی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپوں میں کئی وکلاء زخمی ہو گئے۔

ادھر کراچی میں بھی وکلاء کے ایک احتجاجی مظاہرے پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد کچھ وکلاء کی گرفتاریاں عمل میں بھی لائی گی ہیں۔

شاہراہ دستور اسلام آباد پر مظاہرہ کرنے والے وکلاء اور سیاسی کارکنوں سے پولیس کی جھڑپوں کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا بھی استعمال کیا جبکہ متعدد مظاہرین کو گرفتار کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

سپریم کورٹ کے عین سامنے الیکشن کمیشن کی عمارت میں جس کے ارد گرد سخت سکیورٹی کے انتظامات کیئے گئے ہیں چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق بطور ریٹرننگ افسر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی۔

شاہراہ دستور پر مظاہرہ کرنے والے وکلاء کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک، قانون دان اعتزاز احسن، اور جسٹس (ریٹائرڈ) طارق محمود کر رہے تھے۔ مظاہرین میں انسانی حقوق کی تنظیم کی سرگرم رکن عاصمہ جہانگیر بھی شامل تھیں۔

مشرف کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے موقع پر متعدد وزراء موجود تھے

گرفتار کیئے جانے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان، پاکستان مسلم لیگ کے رکنِ قومی اسمبلی رانا محمود الحسن، ایم ایم اے کے رکنِ قومی اسمبلی حنیف عباسی شامل ہیں۔

وکلاء کے رہنما علی احمد کرد کو پولیس نے شاہراہِ دستور سے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ الیکشن کمیشن کی عمارت کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

وکلاء رہنماوں کے مطابق لاٹھی چارج کے نتیجے میں مختلف چوٹیں لگنے سے 25 وکلاء زخمی ہوئے جنہیں سپریم کورٹ کی ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ دس وکلاء کو ایمبولنس میں ڈال کر مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق پانچ پولیس اہلکار مظاہرین کے پتھراو کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار کے مطابق وکلاء نے سنیچر کو سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس کا بائیکاٹ کیا اور سٹی کورٹس میں احتجاجی جنرل باڈی کا اجلاس کیا گیا، جس میں وکلاء رہنماوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

 وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا جواب میں پولیس اہلکاروں نے بھی ان پر پتھر برسائے ، وکلا عدالتوں کی طرف دوڑے تو پولیس نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے بار روم اور عدالتی احاطوں میں بھی شیلنگ کی۔ بار اور عدالتی دروازوں سے پولیس نے مزید دو وکلاء کوگرفتار کرلیا

جنرل باڈی کے اجلاس کے بعد وکلاء جیسے ہی جلوس نکال کر سڑک پر آئے تو پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روک دیا، وکلا نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے دو وکلاء کو گرفتار کرلیا اور شدید شیلنگ کی۔

وکلاء نے پولیس پر پتھراؤ کیا جواب میں پولیس اہلکاروں نے بھی ان پر پتھر برسائے ، وکلا عدالتوں کی طرف دوڑے تو پولیس نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے بار روم اور عدالتی احاطوں میں بھی شیلنگ کی۔ بار اور عدالتی دروازوں سے پولیس نے مزید دو وکلاء کوگرفتار کرلیا۔

کراچی بار کے صدر افتخار جاوید قاضی کا کہنا ہے کہ وکلا کے پرامن جلوس پر پولیس نے شیلنگ کی ہے، انہوں نے سنا تھا کہ لوگ پولیس پر پتھراؤ کرتے ہیں مگر آج تو پولیس نے لوگوں پر پتھراؤ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا عدالت میں شیلنگ کرکے توہین عدالت کی گئی ہے انہوں نےسیشن کورٹ سے درخواست کی ہے پولیس پر توہین عدالت کا مقدمہ دارج کروایا جائے۔

کراچی بار کے صدر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور کراچی میں پولیس تشدد کے خلاف پیر کو جنرل باڈی کے اجلاس کے بعد لائحہ عمل طئے کیا جائیگا۔

دوسری جانب انسانی حقوق اور این جی اوز کے کچھ کارکنوں نے الیکشنم کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا، پولیس نے سات سے زائد افراد کو گرفتار کرنے کے بعد منشتر کردیا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد کا کہنا ہے کہ کمیٹی روم میں صرف امیدوار، ان کے تجویز و تائید کندگان اور ان کا کوئی وکیل یا کسی نمائندے وغیرہ کو داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں جنرل پرویز مشرف، پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم اور وکلاء کے نمائندے کے طور پر جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد سمیت تینتالیس امیدواروں نے اکہتر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران کمیٹی روم میں سکیورٹی کے پیش نظر کیمرے، خواتین کے بیگ، کیلکولیٹر اور بیٹریز وغیرہ لانے کی اجازت نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جن صحافیوں نے الیکشن کمیشن سے داخلہ پاس حاصل کیے ہیں ان کو کمیٹی روم تک رسائی حاصل ہوگی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے پہلے سے کیے گئے اعلان کے مطابق چھ اکتوبر کو صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ ہونی ہے جس میں پارلیمان کے نمائندوں کے علاوہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین بھی ووٹ دیں گے۔

جمعرات کو صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے وزیرِ اعظم شوکت عزیز اور عمائدینِ حکومت نے ان کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔

صدراتی انتخاب میں وکلاء کی طرف سے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مخدوم امین فہیم نے صدارتی امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

وکلاء نے صدر مشرف کے صدارتی انتخاب میں شریک ہونے پر عدالتوں کا بائیکاٹ کیا تھا اور کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر بھی وکلاء احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔

اخبارات کا عکسصدر کا تحریری بیان
وردی پر صدر کے بیان پر اخبارات کی سرخیاں
مشرفماہرین کی مختلف آرا
ماہرین قوانین پر مختلف آرا کا اظہار کرتے ہیں۔
فائل فوٹو صدر کا انتخاب
اخبارات کی سرخیاں
بےنظیر اور مشرف’آمروں کے ساتھ رقص‘
مشرف سے ڈیل یا شیر پر سواری، نتیجہ کیا ہوگا؟
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد