BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 September, 2007, 22:02 GMT 03:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالت کے دماغ میں جھانکنے کی کوشش

مبصرین عدالت کے دماغ میں جھانکنے کی کوشش میں
صدر پرویز مشرف کے دو عہدوں، سترہویں ترمیم اور بحثیت سرکاری ملازم ان کے الیکشن لڑنے کے خلاف مختلف آئینی پیٹیشنز کی سماعت آخری مرحلے میں ہے۔ دلائل کے ذریعے شروع ہونے اس جنگ کا باقاعدہ آغاز عدالت میں سترہ ستمبر سے ہوا جب پیٹیشنرز کے وکلاء نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صدر پرویز مشرف ایک سرکاری ملازم ہیں اور آئین کسی سرکاری ملازم کو صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سرکاری ملازم حلف لیتا ہے کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے گا اور یہی حلف فوجیوں سے بھی لیا جاتا ہے۔

یہ دلیل بھی دی گئی کہ آئین کی شق اکتالیس کسی کو تیسری مرتبہ صدر بننے کی اجازت نہیں دیتی جبکہ جنرل پرویز مشرف پہلے ہی دو ٹرم گزار چکے ہیں۔ ایک تب جب انہوں نے رفیق تارڑ کو ہٹا کر ان کی جگہ لی تھی اور دوسرے جب وہ ریفرنڈم کے نتیجے میں صدر بنے تھے۔

اس کے علاوہ پیٹیشنرز کا یہ بھی کہنا تھا کہ بطور فوجی، صدر مشرف نے سیاست میں حصہ لے کر آئین کی شق 244 کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کی جانب سے سپریم کورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر مشرف سیاسی طور پر غیر جانبدار نہیں اور وہ باقاعدہ ایک سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں جبکہ صدر کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔

نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال

پیٹیشنرز کے وکلاء کے جواب میں صدر مشرف کے وکلاء کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے دوبارہ انتخاب میں کوئی آئینی یا قانونی رکاوٹ نہیں البتہ وردی کے مسئلے پر صدرکے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ اگر پرویز مشرف دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ وردی اتار دیں گے۔

ٹھیک ایک ہفتے بعد اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے عدالت کو بتایا کہ صدارتی انتخاب میں ناکامی کی صورت میں صدر مشرف، آرمی چیف کا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔

تاہم مبصرین کی جانب سے دونوں اطرف سے دیئے گئے دلائل سے کہیں زیادہ اہمیت اس مقدمے کے دوران نو رکنی بینچ کے ججوں کے مختلف ریمارکس کو دی گئی۔

نو ستمبر کو جسٹس جاوید اقبال نے پیٹیشنرز سے کہا کہ صدر کے ساتھ دو عہدوں پر معاہدہ کر کے ماورائے آئین قدم تو سیاسی جماعتوں نے خود اٹھایا۔

اس سے اگلے دن عدالت نے پیٹیشنرز کے وکلاء سے پوچھا کہ اگر صدر مشرف کا وردی میں رہتے ہوئے دوبارہ منتخب ہونا درست نہیں تو پارلیمنٹ نے ان کا راستہ کیوں نہیں روکا۔ اس پر پیٹیشنرز کے وکلاء نے عدالت سے کہا کہ پارلیمنٹ تو ایک lame duck یا کمزور بطخ ہے۔

جواب میں عدالت نے کہا کہ عدالت ایک کمزور بطخ کو شیر کیسے بنا دے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان کی ذمہ داری سپریم کورٹ پر کیوں ڈالی جا رہی ہے۔

پچیس ستمبر کو عدالت کے اس ریمارک کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا گیا کہ اب نظریۂ ضرورت دفن ہو چکا ہے اور اب کوئی فیصلہ اس کے تحت نہیں آئے گا۔

اب جبکہ مقدمے کا فیصلہ ہونے کو ہے، سیاسی مبصرین جج صاحبان کے مختلف ریمارکس کے ذریعے عدالت کے دماغ میں جھانکے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
سراسیمگی نہ پھیلائیں: عدالت
27 September, 2007 | پاکستان
’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘
26 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد