منتخب نہ ہوئے تو آرمی چیف برقرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کو بتایا ہے کہ صدارتی انتخاب میں ناکامی کی صورت میں جنرل مشرف آرمی چیف کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ یہ بات انہوں نے بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال کے اس سوال پر کہی کہ صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں ناکامی کی صورت میں کیا کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف آف دی آرمی سٹاف کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے جو کہ نااہلی کے زمرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کو دو عہدے رکھنے کی اجازت پارلیمنٹ نے دی ہے۔ ملک قیوم نے کہا کہ درخواست گزاروں میں سے کچھ اُس پارلیمنٹ کا حصہ ہیں جس نے سترہویں ترمیم پاس کی ہے اور اب یہی لوگ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اور حکمران جماعت کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد پارلیمنٹ نے سترہویں ترمیم پاس کی تھی جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کی نظر میں اس معاہدے کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی نظر میں سترہویں ترمیم کی اہمیت ہے جو آئین کا حصہ ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے بنیادی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت کی سپریم کورٹ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ آئین میں ہونے والی کسی بھی ترمیم کومسترد کرسکتی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدوار ہیں جس پر جسٹس سردار رضا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ اس امیدوار کو صدر مانتے ہیں تو پھر الیکشن کروانے کی کیا ضرورت ہے؟
اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کے دوران مختلف مقدمات کے حوالے دیے جن میں نظریہ ضرورت کے تحت قانون بنائے گئے تھے اس پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اب نظریہ ضرورت دفن ہوچکا ہے اور اب کوئی عدالتی فیصلہ نظریہ ضرورت کے تحت نہیں آئے گا۔ جسٹس سردار رضا نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آئندہ ہونے والے انتخاب کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر نے جو ترامیم کی ہیں اس کے تحت کتنے سرکاری ملازمین نے بطور صدارتی اُمیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروائے ہیں اور کیا چیف ایلکشن کمشنر نے ان کے کاغدات مسترد کردیئے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم اپنی ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک کسی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ماسوائے ان کے جنہیں قانون نے مثتسنی قرار دیا ہے۔ رانا بھگوان داس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آیا چیف الیکشن کمشنر جو کہ صدارتی انتخاب میں ریٹرنگ افسر بھی ہے آئین میں کوئی ترمیم کرسکتا ہے تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ ترمیم تو نہیں کرسکتا البتہ وہ آئین کی وضاحت کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے اپنے دلائل کے آغاز میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر کے دو عہدوں سے متعلق دی جانے والی درخواستیں براہ راست سپریم کورٹ میں قابلِ سماعت نہیں ہیں کیونکہ ان کی بنیاد انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ دس روز سے ان آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جبکہ اٹارنی جنرل کے مطابق یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں۔ اٹارنی جنرل نے جب اپنے دلائل کے دوران کہا کہ جماعت اسلامی نے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کی دھمکی دے رکھی ہے تو جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو یہاں زیر بحث نہیں لا سکتے۔ بینچ کے ایک رکن کی طرف سے کیے جانے والے ایک سوال پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صدارتی انتخاب کے کسی بھی امیدوار کے کاغذات نامزدگی مسترد کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد بلا روک ٹوک کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتے ہیں تو یہ سہولت تمام امیدواروں کو حاصل ہونی چاہیے۔ ایک موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر صدارتی الیکشن سے متعلق تمام فیصلہ سپریم کورٹ نے ہی کرنے ہیں تو وہ اپنے رجسٹرار کے ذریعے الیکشن بھی کرا لے۔ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی حکومت کا ٹرائل کر رہا ہے جس پر رانا بھگوان داس نے کہا کہ میڈیا کو آزادی بھی تو آپ لوگوں نے دی ہے۔ اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ٹی وی چینلوں پر وہ لوگ آتے ہیں جنہوں نے قانون نہیں پڑھا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی اپنے لیے کوئی ضابطہِ اخلاق تشکیل دے کر اس پر عمل کرنا چاہیے باالخصوص ان معاملات میں جو عدالت میں زیر سماعت ہوں۔ اٹارنی جنرل کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی سپریم کورٹ نے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔ ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں انتخابی مہم کا آغاز کوئٹہ سے25 September, 2007 | پاکستان عوامی نیشنل پارٹی مزید استعفے 25 September, 2007 | پاکستان قواعد میں تبدیلی، پٹیشن مسترد24 September, 2007 | پاکستان جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج24 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||