BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 September, 2007, 01:03 GMT 06:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابی مہم کا آغاز کوئٹہ سے

صدر کے خلاف وکلا نے جسٹس(ر) وجہیہ الدین کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے
صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف اپنی انتخابی مہم کا آغاز آج یعنی منگل سے کوئٹہ سے کر رہے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کوئٹہ پہنچنے کے بعد گورنر ہاؤس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمان سے خطاب کریں گے۔

سرکاری حکام کے مطابق گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب میں صرف منتخب سینیٹرز اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو مدعو کیا گیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے اس دورے کے حوالے سے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور گورنر ہاؤس کو جانے والی شاہراہ کو سجایا گیا ہے۔

اس تقریب میں متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی شرکت مشکوک نظر آ رہی ہے تاہم تاحال مجلس عمل کی جانب سے باقاعدہ کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ وہ اس تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر سینیئر وزیر مولانا عبدالواسع سے کچھ روز پہلے رابطہ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

بلوچستان کے حوالے سے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی قائدین نے بھی کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی صوبائی سطح پر تحریک کی جانب سے کوئی بھی کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے ۔

مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع اور مجلس عمل کے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کئی روز سے اسلام آباد میں ہیں اور ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف اپنے اس دورے میں حکومتی اراکین کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لیے کہیں گے لیکن یہ اطلاعات بھی ہیں کہ حکمران مسلم لیگ کے دو ارکان صدر پرویز مشرف کو ووٹ نہیں دیں گے۔

بلوچستان اسمبلی میں یوں تو اراکین اسمبلی کی کل تعداد پینسٹھ ہے لیکن پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے ایک ایک رکن کو نااہل قرار دیا جا چکا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے دو اراکین اسمبلی نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے۔

دوسرے الفاظ میں اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی تعداد اکسٹھ ہے اور ہر رکن کا ایک ووٹ ہوگا اس لیے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں سترہ اراکین مجلس عمل کے پچیس حکمران مسلم لیگ اور تین حکومت کےاتحادی جماعتوں کے ہیں۔

حزب اختلاف میں نیشنل پارٹی کے اراکین کی تعداد پانچ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار پیپلز پارٹی کے دو اور ایک آزاد رکن بالاچ مری شامل ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے چار اراکین اسمبلی کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں اور یا حزب اختلاف کے ساتھ کیونکہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جماعت میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں
23 September, 2007 | پاکستان
جنرل مشرف کو وکلاء کا چیلنج
24 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد