اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلسِ عمل، ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اسلام آباد سے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کے پس منظر میں اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں سے متعلق ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم ایم اے میں شامل جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے بتایا کہ اسمبلیوں سے اجتماعی طور پر استعفے دینے سے متعلق مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی ہے اور اس سلسلے میں اتوار اور پیر کو جمیعت علماء اسلام کے دو اہم اجلاس ہیں جن کے بعد ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس ممکنہ طور پر منگل کو منعقد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ اجلاس اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن اب چونکہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد حالات بدل گئے ہیں تو اس اجلاس کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے اور اب سارے اجلاس پشاور ہی میں ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن استعفے دینے سے متعلق اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے استعفے دینے ہیں ان کو گرفتار کر کے اجتماعی فیصلوں سے دور رکھا جارہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ملک سے باہر تھے اس لیے وہ آخری نشست میں شریک نہیں ہو سکے تھے لیکن ان کا نمائندہ شریک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کا شروع ہی سے یہ موقف تھا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم جو بھی فیصلہ کرے گی اس میں وہ پوری طرح شریک ہونگے تو میرا خیال نہیں ہے کہ اس میں کوئی پیچیدگی ہو گی اور سب لوگ مل جل کر استعفیٰ دے گے‘۔
واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کیے جانے کے خلاف اسمبلیوں سے استعفے دینے سے متعلق اے پی ڈی ایم کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سنیچر کو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہر فیصلے کی تعمیل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن ایک باصلاحیت سیاستدان ہیں اور وہ بہترطور پر جانتے ہیں کہ ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کس وقت اور کیسے کیے جانے چاہیں اور اس سلسلے میں ان کی جماعت کے فیصلے کا کلی اختیار ان کے پاس ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے استعفوں سے متعلق تحفظات اور وزیرِ اعلٰی سرحد کا مولانا پر بھرپور اعتماد ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اپوزیشن اتحاد یعنی اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے انتیس ستمبر کو اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب کہ صدارتی انتخابات انتہائی قریب ہیں ایم ایم اے کی لیڈر شپ میں اختلافات حکومت کے حق میں جاتے ہیں اور حکومتی حلقے اس سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان پاکستان: اے پی ڈی ایم کے مظاہرے21 September, 2007 | پاکستان دو عہدوں کی تائید پارلیمان نےکی: بینچ21 September, 2007 | پاکستان پاکستانی عدلیہ پر دباؤ 20 September, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا اعلان20 September, 2007 | پاکستان ’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘20 September, 2007 | پاکستان صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں19 September, 2007 | پاکستان عمران نے ایک اور پٹیشن دائر کر دی19 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||