BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں

سید منور حسن
استعفے دینے والوں کو گرفتار کر کے اجتماعی فیصلوں سے دور رکھا جارہا ہے
متحدہ مجلسِ عمل، ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر اسلام آباد سے پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کے پس منظر میں اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں سے متعلق ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمن کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایم ایم اے میں شامل جماعتِ اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے بتایا کہ اسمبلیوں سے اجتماعی طور پر استعفے دینے سے متعلق مولانا فضل الرحمن سے بات ہوئی ہے اور اس سلسلے میں اتوار اور پیر کو جمیعت علماء اسلام کے دو اہم اجلاس ہیں جن کے بعد ایم ایم اے کی سپریم کونسل کا اجلاس ممکنہ طور پر منگل کو منعقد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ اجلاس اسلام آباد میں ہونا تھا لیکن اب چونکہ سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد حالات بدل گئے ہیں تو اس اجلاس کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے اور اب سارے اجلاس پشاور ہی میں ہوں گے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن استعفے دینے سے متعلق اعلان کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے استعفے دینے ہیں ان کو گرفتار کر کے اجتماعی فیصلوں سے دور رکھا جارہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ملک سے باہر تھے اس لیے وہ آخری نشست میں شریک نہیں ہو سکے تھے لیکن ان کا نمائندہ شریک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کا شروع ہی سے یہ موقف تھا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم جو بھی فیصلہ کرے گی اس میں وہ پوری طرح شریک ہونگے تو میرا خیال نہیں ہے کہ اس میں کوئی پیچیدگی ہو گی اور سب لوگ مل جل کر استعفیٰ دے گے‘۔

مولانا فیصلے میں شریک ہوں گے
News image
 مولانا فضل الرحمن کا شروع ہی یہ مؤقف تھا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم جو بھی فیصلہ کرے گی اس میں وہ پوری طرح شریک ہونگے
منور حسن

واضح رہے کہ قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کیے جانے کے خلاف اسمبلیوں سے استعفے دینے سے متعلق اے پی ڈی ایم کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سنیچر کو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہر فیصلے کی تعمیل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن ایک باصلاحیت سیاستدان ہیں اور وہ بہترطور پر جانتے ہیں کہ ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کس وقت اور کیسے کیے جانے چاہیں اور اس سلسلے میں ان کی جماعت کے فیصلے کا کلی اختیار ان کے پاس ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے استعفوں سے متعلق تحفظات اور وزیرِ اعلٰی سرحد کا مولانا پر بھرپور اعتماد ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اپوزیشن اتحاد یعنی اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے انتیس ستمبر کو اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے دینے کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت جب کہ صدارتی انتخابات انتہائی قریب ہیں ایم ایم اے کی لیڈر شپ میں اختلافات حکومت کے حق میں جاتے ہیں اور حکومتی حلقے اس سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
پاکستانی عدلیہ پر دباؤ
20 September, 2007 | پاکستان
’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد