پاکستان: اے پی ڈی ایم کے مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹ موومنٹ کی جانب سے اعلان کے مطابق جمعہ کو ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ اے پی ڈی ایم نے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان، نواز شریف کی ملک بدری اور مولانا حسن جان کے قتل کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ہائی کورٹ کے قریب واقع مسجد خضرا کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، عوامی تحریک اور مسلم لیگ نواز کے کارکن شامل تھے۔ مظاہرے کے آغاز سے قبل ہی پولیس اہلکاروں نے اس ٹرک پر قبضہ کرلیا جس پر سیاسی رہنماؤں کے خطاب کے لیے ساؤنڈ سسٹم نصب تھا۔ نماز جمعہ کے بعد سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے نعرے لگانا شروع کیے تو پولیس نےان میں سے چھ کے قریب کارکنوں کو حراست میں لے لیا، جس پر کارکن مشتعل ہوگئے اور ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ کارکنوں نے پولیس موبائل پر ڈنڈے برسا کر اہلکاروں کو دوڑنے پر مجبور کر دیا۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں معراج الہدیٰ، نصراللہ شجیح، زبیر خان، سلیم ضیاء، زبیر خان، قادر رانٹو اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کیا۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم کا احتجاج مشرف کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، یہاں فتح عوام نوازوں کی نہیں بلکہ امریکہ مخالفوں کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کےاحتجاج کے نتیجے میں فوجی حکمرانوں کی کشتی ڈوب رہی ہے۔ سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف کو چاہیے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں اور عوام پر رحم کریں، ’جو بدمعاشی انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کرنی تھی وہ ہوگئی اور اب احتساب کا وقت ہے‘۔ سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ عوام کی نظریں اس وقت عدلیہ پر ہیں اور امید ہے کہ وہ انہیں مایوس نہیں کرے گی۔ لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق اے پی ڈی ایم میں شامل حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کے خلاف چوک نیلا گنبد میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں مسلم لیگ (نواز)، جماعت اسلامی، تحریک انصاف، جمعیت علماء اسلام اور خاکسار تحریک کے کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے پرچموں کے ساتھ شرکت کی۔ مظاہرین ’گو مشرف گو‘ اور ’مشرف کا جو یار ہے وہ غدار ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ’وزیر اعظم نواز شریف‘ کے نعرے بھی لگائے۔ پیپلز پارٹی کے بعض کارکنوں نے خاموشی کے ساتھ مظاہرے میں شرکت کی۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
سابق گورنر پنجاب غلام مضطفیٰ کھر کی مظاہرے میں شرکت پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے ان کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے قیام اور آمریت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔ غلام مصطفیٰ کھر نے خطاب میں کہا کہ نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی سے تحریک ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ پہلے سے زیادہ موثر انداز میں چلے گی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسان وائیں کا کہنا تھا کہ جس دن جنرل پرویز مشرف صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائیں اس دن تمام سیاسی جماعتوں کے منتخب ارکان اسمبلی کو مستعفیٰ ہو جانا چاہیے تاکہ اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ جنرل مشرف وردی یا بغیر وردی دونوں صورتوں میں صدرات کے لیے قبول نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان اسمبلی استعفے دینے کے بعد گھروں میں نہیں بیھٹیں گے بلکہ بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور سڑکوں پر نکلیں گے۔ مظاہرین سے مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے ارکان اسمبلی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج11 September, 2007 | پاکستان نواز ملک بدری:یوم سیاہ اور احتجاج11 September, 2007 | پاکستان آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟12 September, 2007 | پاکستان اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان16 September, 2007 | پاکستان ’استعفوں کی کوئی اہمیت نہیں‘16 September, 2007 | پاکستان اے پی ڈی ایم اعلان یا شکست17 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||