’استعفوں کی کوئی اہمیت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں چند ہفتوں کے بعد ختم ہونے والی ہیں اس لیے اپوزیشن کے استعفوں کی کوئی خاص سیاسی اہمیت نہیں ہوگی تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر پارٹی صدراتی انتخاب میں حصہ لے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو وہ صدر مشرف کے خلاف ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو لاہور میں گورنر ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو اور بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسلام آباد میں آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ صدر مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب کی صورت میں تحریک میں شامل جماعتیں استعفے دیں گی۔ وزیرِ اعظم نےکہا ہے کہ اے پی ڈی ایم کا فیصلہ مناسب نہیں ہے پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے اگر وہ استعفے دیں گے تو عوام انہیں کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ شوکت عزیز نے کہا کہ ’صدارتی انتخابات پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے دوران ہوں گے۔ سپریم کورٹ کل سے صدراتی عہدے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کر رہی ہے اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت اس کے مطابق اپنی حکمت عملی طے کرے گی‘۔
صدارتی انتخاب کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کی معطلی کے نوٹیفیکشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ’ جو تبدیلی بھی کی گئی ہے اسے قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس حوالے سے عدالتی فیصلہ اور قانون سازی موجود ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’صدرمشرف کی اہلیہ صہبا مشرف کے صدراتی انتخاب لڑنے کی باتیں قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور جہاں تک بے نظیر اور کلثوم نواز کی وطن واپسی کا معاملہ ہے وہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا اور اس بارے میں قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار منتخب اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہیں۔ وزیر اعظم نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ ملک میں امن وامان قائم کرنے کے لیے پیراملٹری فورسز اور پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک میں آٹے کی قیمت پاکستان سے زیادہ ہے اس لیے پاکستان سے گندم کی سمگلنگ ہوئی ہے جسے اب کنٹرول کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم کے بقول حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہےاور قیمتیں کم رکھنے کے لیے عوام کو ڈیڑھ ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔ | اسی بارے میں اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان16 September, 2007 | پاکستان آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟12 September, 2007 | پاکستان جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج11 September, 2007 | پاکستان عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ23 August, 2007 | پاکستان ’فوج اقتدار سے علیحدہ ہو جائے‘14 August, 2007 | پاکستان ایم ایم اے، مسلم لیگ کا اتحاد11 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||