BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’استعفوں کی کوئی اہمیت نہیں‘

شوکت عزیز
’آخری دنوں میں اے پی ڈی ایم کا استعفوں کا فیصلہ مناسب نہیں ہے‘
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں چند ہفتوں کے بعد ختم ہونے والی ہیں اس لیے اپوزیشن کے استعفوں کی کوئی خاص سیاسی اہمیت نہیں ہوگی تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر پارٹی صدراتی انتخاب میں حصہ لے۔

وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو اعتراضات ہیں تو وہ صدر مشرف کے خلاف ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو لاہور میں گورنر ہاؤس میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو اور بعد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔


وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب اسلام آباد میں آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ صدر مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب کی صورت میں تحریک میں شامل جماعتیں استعفے دیں گی۔

وزیرِ اعظم نےکہا ہے کہ اے پی ڈی ایم کا فیصلہ مناسب نہیں ہے پارلیمنٹ اپنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے اگر وہ استعفے دیں گے تو عوام انہیں کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔

شوکت عزیز نے کہا کہ ’صدارتی انتخابات پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے دوران ہوں گے۔ سپریم کورٹ کل سے صدراتی عہدے سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کر رہی ہے اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا حکومت اس کے مطابق اپنی حکمت عملی طے کرے گی‘۔

قانون کی پیروی
 ’صدرمشرف کی اہلیہ صہبا مشرف کے صدراتی انتخاب لڑنے کی باتیں قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور جہاں تک بے نظیر اور کلثوم نواز کی وطن واپسی کا معاملہ ہے وہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا اور اس بارے میں قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا

صدارتی انتخاب کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ کی معطلی کے نوٹیفیکشن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ’ جو تبدیلی بھی کی گئی ہے اسے قانونی تحفظ حاصل ہے اور اس حوالے سے عدالتی فیصلہ اور قانون سازی موجود ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’صدرمشرف کی اہلیہ صہبا مشرف کے صدراتی انتخاب لڑنے کی باتیں قیاس آرائی پر مبنی ہیں اور جہاں تک بے نظیر اور کلثوم نواز کی وطن واپسی کا معاملہ ہے وہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا اور اس بارے میں قانون کے مطابق عمل کیا جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی بار منتخب اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہیں۔

وزیر اعظم نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بتایا کہ ملک میں امن وامان قائم کرنے کے لیے پیراملٹری فورسز اور پولیس کی نفری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک میں آٹے کی قیمت پاکستان سے زیادہ ہے اس لیے پاکستان سے گندم کی سمگلنگ ہوئی ہے جسے اب کنٹرول کیا جا رہا ہے۔وزیرِ اعظم کے بقول حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہےاور قیمتیں کم رکھنے کے لیے عوام کو ڈیڑھ ارب روپے کا پیکج دیا ہے۔

اسی بارے میں
اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان
16 September, 2007 | پاکستان
جلاوطنی، سعودی عرب سے احتجاج
11 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد