اسلام آباد میں سیاسی گرفتاریاں اور چھاپے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے جبکہ کئی رہنماؤں کی حراست کے لے دارالحکومت اسلام آباد میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے ہفتے کی رات گئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں راجہ ظفر الحق اور مخدوم جاوید ہاشمی، جمعیت علماء اسلام کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم شامل ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان قائدین کی حراست کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ پولیس جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ دونوں رہنما روپوش ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ وہ بھی اس وقت روپوش ہیں۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق مخدوم جاوید ہاشمی کو ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے مخصوص پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا گیا اور ان کی گرفتاری کے احکامات نقص امن کی دفعہ کے تحت جاری کئے گئے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کے پاس کم از کم حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے پینتیس رہنماؤں کو حراست میں لینے کے احکامات ہیں۔ واضح رہے کے حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدر مشرف کے دوبارہ صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف پارلیمان سے انتیس ستمبر کو مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے۔ | اسی بارے میں ’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘23 December, 2006 | پاکستان جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان شناختی کارڈ کیخلاف درخواست06 August, 2007 | پاکستان نواز واپسی کیخلاف سرگرمیوں کا الزام08 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||