گرفتاریاں: ارکان کوڈرانے کیلیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت اراکین اسمبلی کو استعفوں سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی انہی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔ مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ’اگر انہیں الیکشن کمیشن یا سپیکر کے پاس استعفے جمع کرانے کے لیے جانے سے روکا گیا تو یہ کھلی دھاندلی ہوگی اور اسے پاکستانی قوم سمیت بین الاقوامی برادری قبول نہیں کرے گی‘۔ قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کی ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے جو پولیس نے سنیچر کی رات سے شروع کررکھی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خود قاضی حسین احمد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی پارلیمنٹ لاجز میں نظر بند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت اراکین اسمبلی کو استعفوں سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں وہ ناکام ہوگی‘۔ انہوں نے کہا کہ ’گرفتاریاں دراصل ان سرکاری اراکین اسمبلی کو ڈرانے کی کوشش ہیں جو اپوزیشن کے ساتھ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔ آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے انتیس ستمبر کو صدراتی انتخاب کے خلاف مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اس تاریخ پر مستعفی ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے پیر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی سے پہلے اتوار کی شب ان کی مسلم لیگ نون کے جلا وطن سربراہ میاں محمدنواز شریف سے ایک مزید خصوصی ملاقات ہوچکی ہوگی۔ اسلام آباد میں دوپہر کو مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت جے یوآئی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اعلان کردہ استعفوں کے فیصلہ پر غور کرکے جے یوآئی اپنی حکمت عملی طے کرے گی۔ مولانا امجد خان کا کہنا ہے کہ اعتراض استعفے دینے پر نہیں بلکہ مولانا ادھر سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کے اس بیان کا بھی نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ پارلیمان کی مدت چھ چھ ماہ کے لیے بڑھائی جا سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو تقسیم کرنے کا ایک اور کارڈ کھیلا ہے اور اس سے ایک طرف اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے مستعفی ہوجانے کے بعد ضمنی انتخابات کروائے جاسکتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری اراکین کو تاثر دیا گیا ہے کہ صدر مشرف کو کامیاب کرانے کی صورت میں وہ مزید ایک برس تک اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے اراکین نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے باوردی الیکشن لڑنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی لیکن پھر اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کے بعد سے اس دھمکی کا اعادہ نہیں کیا گیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اے پی ڈی ایم کے اراکین کے ساتھ مستعفی نہیں ہوگی تاہم پیپلز پارٹی نے بھی تین اکتوبر کو اپنا اجلاس طلب کیا ہے۔ | اسی بارے میں گرفتاریاں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری23 September, 2007 | پاکستان اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں 23 September, 2007 | پاکستان ’فضل الرحمان کے فیصلے پر چلیں گے‘22 September, 2007 | پاکستان اسلام آباد میں سیاسی گرفتاریاں اور چھاپے22 September, 2007 | پاکستان منتخب اراکین سے استعفوں کا مطالبہ22 September, 2007 | پاکستان صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان پاکستان: اے پی ڈی ایم کے مظاہرے21 September, 2007 | پاکستان دو عہدوں کی تائید پارلیمان نےکی: بینچ21 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||