BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 14:55 GMT 19:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریاں: ارکان کوڈرانے کیلیے

جاوید ہاشمی
مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی پارلیمنٹ لاجز میں نظر بند ہیں
اپوزیشن رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت اراکین اسمبلی کو استعفوں سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور آل پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے رہنماؤں کی گرفتاریاں بھی انہی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔

مجلس عمل کے صدر اور امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ’اگر انہیں الیکشن کمیشن یا سپیکر کے پاس استعفے جمع کرانے کے لیے جانے سے روکا گیا تو یہ کھلی دھاندلی ہوگی اور اسے پاکستانی قوم سمیت بین الاقوامی برادری قبول نہیں کرے گی‘۔

قاضی حسین احمد نے اپنے ایک بیان میں اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں کی ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے جو پولیس نے سنیچر کی رات سے شروع کررکھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق خود قاضی حسین احمد کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے گئے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی پارلیمنٹ لاجز میں نظر بند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت اراکین اسمبلی کو استعفوں سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں وہ ناکام ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’گرفتاریاں دراصل ان سرکاری اراکین اسمبلی کو ڈرانے کی کوشش ہیں جو اپوزیشن کے ساتھ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔

آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنماؤں نے انتیس ستمبر کو صدراتی انتخاب کے خلاف مستعفی ہونے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے اس تاریخ پر مستعفی ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اپنا سعودی عرب کا دورہ مختصر کرکے پیر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

اعتراض استعفے دینے پر نہیں
 اعتراض استعفے دینے پر نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمان سے مشورے کے بغیر تاریخ کے اعلان پر ہے۔ انہوں نے مثال پیش کی کہ یہ استعفے چھ اکتوبر سے ایک دوروز پہلے بھی دیے جاسکتے ہیں
مولانا امجد خان

انہوں نے کہا کہ پاکستان واپسی سے پہلے اتوار کی شب ان کی مسلم لیگ نون کے جلا وطن سربراہ میاں محمدنواز شریف سے ایک مزید خصوصی ملاقات ہوچکی ہوگی۔

اسلام آباد میں دوپہر کو مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت جے یوآئی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا جس میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں اے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اعلان کردہ استعفوں کے فیصلہ پر غور کرکے جے یوآئی اپنی حکمت عملی طے کرے گی۔

مولانا امجد خان کا کہنا ہے کہ اعتراض استعفے دینے پر نہیں بلکہ مولانا
فضل الرحمان سے مشورے کے بغیر تاریخ کے اعلان پر ہے۔ انہوں نے مثال پیش کی کہ یہ استعفے چھ اکتوبر سے ایک دوروز پہلے بھی دیے جاسکتے ہیں۔

ادھر سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم شوکت عزیز کے اس بیان کا بھی نوٹس لیا ہے جس میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ پارلیمان کی مدت چھ چھ ماہ کے لیے بڑھائی جا سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو تقسیم کرنے کا ایک اور کارڈ کھیلا ہے اور اس سے ایک طرف اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کے مستعفی ہوجانے کے بعد ضمنی انتخابات کروائے جاسکتے ہیں اور دوسری طرف سرکاری اراکین کو تاثر دیا گیا ہے کہ صدر مشرف کو کامیاب کرانے کی صورت میں وہ مزید ایک برس تک اقتدار کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اراکین نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے باوردی الیکشن لڑنے کی صورت میں مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی لیکن پھر اعلیٰ سطح کے ایک اجلاس کے بعد سے اس دھمکی کا اعادہ نہیں کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اے پی ڈی ایم کے اراکین کے ساتھ مستعفی نہیں ہوگی تاہم پیپلز پارٹی نے بھی تین اکتوبر کو اپنا اجلاس طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں
اے پی ڈی ایم اجلاس سرحد میں
23 September, 2007 | پاکستان
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد