گرفتاریاں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں اے پی ڈی ایم کے مزید کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت یہ اقدام حزب اختلاف کی جماعتوں اور وکلاء برادری کی طرف سے ستائیس ستمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر اورصوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر کے گھیراؤ کی دھمکی کے بعد کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہفتے کی رات گرفتار کیے گئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں راجہ ظفر الحق، مخدوم جاوید ہاشمی، جمعیت علماء اسلام کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم کو وفاقی دارالحکومت میں قائم کی جانے والی سب جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان قائدین کی حراست کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ پولیس جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ دونوں رہنما روپوش ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ وہ بھی اس وقت روپوش ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ان افراد کوخطرہ نقص امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ایک ماہ تک ان کی رہائش گاہوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے چالیس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی ایک سب جیل بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار کیےگئے ان رہنماؤں کو اس سب جیل میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی نظر بندی میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے اور نظر بندی کے یہ احکامات واپس بھی لیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس برقرار ہے اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے سیاسی کارکنوں کو جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں زیر سماعت صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں ترمیم اور صدر کی طرف سے وردی میں آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے جمعے کے روز مظاہرے کے دوران کہا تھا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر اکٹھے ہوں گے۔ |
اسی بارے میں شوکت کی مشرف حمایت مہم23 September, 2007 | پاکستان ’فضل الرحمان کے فیصلے پر چلیں گے‘22 September, 2007 | پاکستان نوازشریف فلاپ شو کاذمہ دار کون؟22 September, 2007 | پاکستان منتخب اراکین سے استعفوں کا مطالبہ22 September, 2007 | پاکستان ’عوام کی عدم دلچسپی، حکومتی سازش‘22 September, 2007 | پاکستان آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل21 September, 2007 | پاکستان ’29 ستمبر کو مستعفی ہوجائینگے‘21 September, 2007 | پاکستان پاکستان: اے پی ڈی ایم کے مظاہرے21 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||