BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 September, 2007, 10:28 GMT 15:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریاں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری

جاوید ہاشمی گرفتاری سے پہلے فون پر بات کرتے ہوئے
جاوید ہاشمی اس سے قبل بغاوت کے الزام میں قید کاٹ چکے ہیں
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں اے پی ڈی ایم کے مزید کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حکومت یہ اقدام حزب اختلاف کی جماعتوں اور وکلاء برادری کی طرف سے ستائیس ستمبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے موقع پر چیف الیکشن کمشنر اورصوبائی الیکشن کمیشن کے دفاتر کے گھیراؤ کی دھمکی کے بعد کیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں حکام کے مطابق ہفتے کی رات گرفتار کیے گئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں راجہ ظفر الحق، مخدوم جاوید ہاشمی، جمعیت علماء اسلام کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے اسلام آباد سے رکن قومی اسمبلی میاں اسلم کو وفاقی دارالحکومت میں قائم کی جانے والی سب جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

حافظ حسین احمد
حافظ حسین احمد کو سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک پولیس والا گرفتاری ککے وارنٹ دے رہا ہے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان قائدین کی حراست کی تصدیق کی اور دعویٰ کیا کہ پولیس جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق یہ دونوں رہنما روپوش ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ وہ بھی اس وقت روپوش ہیں۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ان افراد کوخطرہ نقص امن کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں ایک ماہ تک ان کی رہائش گاہوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس
جاوید ہاشمی کے اپارٹمنٹ کے باہر پولیس پہرہ دے رہی ہے

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے چالیس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اسلام آباد میں بھی ایک سب جیل بنائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار کیےگئے ان رہنماؤں کو اس سب جیل میں بھیجا جا سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی نظر بندی میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے اور نظر بندی کے یہ احکامات واپس بھی لیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دفعہ ایک سو چوالیس برقرار ہے اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے سیاسی کارکنوں کو جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں زیر سماعت صدر کے دو عہدے رکھنے، سترہویں ترمیم اور صدر کی طرف سے وردی میں آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر درخواستوں کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے جمعے کے روز مظاہرے کے دوران کہا تھا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر اکٹھے ہوں گے۔

اپوزیشن تحریک
’عوامی عدم دلچسپی حکومت کی سازش ہے‘
نواز شریفنواز شریف استقبال
پارٹی کی اعلٰی قیادت فلاپ شو کی ذمہ دار ہے؟
صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
جنرل مشرفانتخاب چھ اکتوبر کو
صدر جنرل مشرف اخبارات پر چھائے رہے
معنی خیز تبدیلیاں
پاکستان فوج کے چھ جرنیلوں کی ترقی
لوگ کہتے ہیں
’چھ اکتوبر کو ہونے والا انتخاب ڈمی ہیں‘
اسی بارے میں
شوکت کی مشرف حمایت مہم
23 September, 2007 | پاکستان
آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل
21 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد