عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | اکرم درانی کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ جنرل مشرف کی حمایت کرسکتے ہیں |
پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہی نے سنیچر کو صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد اکرم خان درانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےکہا ہے کہ وہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمٰن کے ہر فیصلے کی تعمیل کریں گے۔ وزیراعلیٰ درانی کا بیان اس لیے اہم ہے کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن حالیہ دنوں میں اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ صدارتی انتخاب میں جنرل پرویز مشرف کی حمایت کر سکتے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ بظاہر جمعیت علماء اسلام کے رہنماء مولانا حسن جان کے قتل کی تعزیت کرنے کے سلسلے میں سنیچر کو پشاور آئے تھے تاہم سیاسی مبصرین نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کی تناظر میں دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان ہونے والی ملاقات کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ پرویز الہی کے پشاور کے دورے کا مقصد مولانا حسن جان کی تعزیت اور انکی مزاج پرسی کرنا تھا۔ اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سرحد نے مولانا فضل الرحمن کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر مولانا فضل الرحمن کی گہری نظر ہے اور وہ ماضی کی لغزشوں سے بچنے کے لیے پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں۔  | | | فضل الرحمان جنرل مشرف کی حمایت کا عندیہ دے چکے ہیں | انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن ایک باصلاحیت سیاستدان ہیں اور وہ بہترطور پر جانتے ہیں کہ ملک اور قوم کی مفاد میں فیصلے کس وقت اور کیسے کیے جانے چاہیئیں اور اس سلسلے میں انکی جماعت کے فیصلے کا کلی اختیار انکے پاس ہے۔بعد ازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے بعض بین الصوبائی معاملات پر گفتگو کی اور انکے بقول وفاق اور صوبوں کے مابین کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جنکے متعلق صوبوں کی آپس میں مشاورت کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور سرحد کے وزرائےاعلیٰ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس نے جنرل پرویز مشرف کی دوبارہ صدر منتخب ہونے کے خلاف انتیسں ستمبر کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے تاہم اتحاد میں شامل متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے اے پی ڈی ایم کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد نے سرحد اسمبلی توڑنے کے آپشن کی بات کی ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سرحد کے بیان سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دبے دبے لفظوں میں اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کے موقف کی حمایت کی ہے اور انہوں نے اپنا سیاسی وزن ایم ایم اے کے سربراہ قاضی حسین احمد کی بجائے مولانا فضل الرحمن کے پلڑے میں ڈالنے کا عندیہ دیا ہے۔ |