BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی انتخاب سےپہلےاہم تبدیلیاں

حکومتی ذرائع کے مطابق اب نائب آرمی چیف کا عہدہ ختم ہوجائے گا
صدارتی انتخاب کے شیڈول کے محض ایک روز بعد چھ میجر جنرلز کو ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا کر نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

ویسے تو فوجی افسران کی ترقیاں و تقرریاں عام سی بات ہوتی ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں آرمی چیف صدر ہیں اور جب وہ خود کو پارلیمان سے صدر منتخب کروانے جا رہے ہیں، اس موقع پر آئی ایس آئی اور راولپنڈی کور کے سربراہان کی تبدیلی معنی خیز بن جاتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں اہم کردار کی حامل انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کے نئے سربراہ میجر جنرل ندیم تاج کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر تعینات کیا گیا ہے۔ ندیم تاج جنرل پرویز مشرف کے انتہائی قابل اعتماد افسر سمجھے جاتے ہیں۔

جب بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو جنرل پرویز مشرف کولمبو سے پاکستان آرہے تھے اور ان کے طیارے کو اترنے سے روکا گیا اور انہیں میاں نواز شریف نے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا تو اس وقت ندیم تاج جنرل مشرف کے ملٹری سیکریٹری تھے اور ان کے ساتھ طیارے میں تھے۔

بعد میں جب جنرل پرویز مشرف پر راولپنڈی میں حملہ ہوا تو اس وقت بھی ندیم تاج ان کے ساتھ تھے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ بعد میں انہیں ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ بنایا گیا اور اب انہیں آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ بینظیر بھٹو سے مذاکرات میں بھی وہ شریک رہے ہیں۔

دوسری اہم تبدیلی راولپنڈی کے کور کمانڈر کی ہے۔ جہاں میجر جنرل محسن کمال کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کی جگہ نیا کور کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ محسن کمال اس وقت سیاچن سمیت شمالی علاقہ جات کی فورس کمانڈ کے سربراہ ہیں۔ یہ فورس یا ایف سی این اے راولپنڈی کور کا ایک ڈویژن ہے۔

طیارے کے ساتھی
 جب بارہ اکتوبر انیس سو نناوے کو جنرل پرویز مشرف کولمبو سے پاکستان آرہے تھے اور ان کے طیارے کو اترنے سے روکا گیا اور انہیں میاں نواز شریف نے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا تو اس وقت ندیم تاج جنرل مشرف کے ملٹری سیکریٹری تھے اور ان کے ساتھ طیارے میں تھے۔ بعد میں جب جنرل پرویز مشرف پر راولپنڈی میں حملہ ہوا تو اس وقت بھی ندیم تاج ان کے ساتھ تھے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ بعد میں انہیں ملٹری انٹیلی جنس کا سربراہ بنایا گیا اور اب انہیں آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا گیا ہے۔ ندیم تاج کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ بینظیر بھٹو سے مذاکرات میں بھی وہ شریک رہے ہیں

واضح رہے کہ راولپنڈی کور پاکستان فوج کا ایک بڑی کور سمجھی جاتا ہے اور جب بھی فوج اقتدار پر قبضہ کرتی ہے تو وزیراعظم ہاؤس، ٹیلی ویژن سینٹر، ریڈیو اور دیگر اہم اداروں پر اس کور کے اہلکار ہی کنٹرول کرتے ہیں۔

آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی اور راولپنڈی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو کہاں تعینات کیا گیا ہے اس سوال کا جواب فوج کے ترجمان کے پاس بھی فی الوقت نہیں۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ دونوں میں سے ایک کو جنرل احسان الحق کی جگہ چئرمین جوائنٹس چیف آف سٹاف کمیٹی اور دوسرے کو آرمی چیف تعینات کیا جائے گا۔ جنرل احسان الحق اور جنرل احسن سلیم حیات (نائب آرمی چیف) آٹھ اکتوبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب چونکہ صدر پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اس لیے نائب آرمی چیف کا عہدہ ختم ہوجائے گا اور توقع ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید نئے آرمی چیف بنا دیے جائیں۔

طارق مجید کے لیے بتایا گیا ہے کہ جب صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا تو وہ لاہور میں تعینات تھے اور نواز شریف کی املاک انہوں نے کنٹرول میں لی تھیں۔ اس وقت سے وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے با اعتماد افسر ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد جی ایچ کیو میں تعینات ہونے والے میجر جنرل جاوید ضیا اس وقت ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ ہیں۔

واضح رہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد کے موقع پر، تشدد بھری کارروائیوں میں چالیس سے زائد لوگ مارے گئے تھے، ججوں کو ہراساں کیا گیا تھا، نجی ٹی وی چینل ک دفتر پر حملہ ہوا تھا رینجرز پر تماشائی بنے رہنے کا الزام لگا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی حاصل کرنے والوں میں میجر جنرل شجاعت ضمیر ڈار بھی ہیں جنہیں ڈائریکٹر جنرل انسداد منشیات فورس بنایا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے قومی احتساب بیورو اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ بلوچستان میں تعیناتی کے دوران ان کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔

ترقی پانے والے دیگر دو میجر جنرلز میں محمد اصغر اور جمیل حیدر ہیں۔ محمد اصغر کو نیشنل یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی جبکہ جمیل حیدر کو جی ایچ کیو میں لگایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل
21 September, 2007 | پاکستان
’لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘
21 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد