BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 14:03 GMT 19:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘

قاضی حسین احمد اور دوسرے رہنما
’اگر جنرل مشرف صدر کا انتخاب لڑتے ہیں تو یہ نہ پاکستان کی عوام کو اور نہ ہی بیرونی دنیا کو قبول ہو گا‘
جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کا کہنا ہے کہ اگر عدالت عالیہ نے واضع دلائل کے باوجود جنرل پرویز مشرف کو صدارت کا انتخاب لڑنے سے نہ روکا تو یہ قوم کو تکلیف دینے کے مترادف ہوگا اور پھر فیصلے سڑکوں پر ہونگے۔

یہ بات اُنہوں نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے باہر جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے استعفوں کے باوجود اگر جنرل مشرف صدر کا انتخاب لڑتے ہیں تو یہ پاکستان کی عوام کو اور نہ ہی بیرونی دنیا کو قبول ہو گا۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ قوم ٹی وی پر سیاستدانوں کا تماشہ دیکھنے کی بجائے سڑکوں پر آئے اور اپنی قیادت کے ساتھ مل کر ملک میں آئین کی بحالی کی تحریک چلائے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اور دوسرے قائدین سڑکوں پر ڈنڈے کھا رہے ہیں اور قوم گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہے۔

اسلام آباد مظاہرہ
اسلام آباد کے مظاہرے میں بہت کم افراد نے شرکت کی

سپریم کورٹ کے باہر ہونے والے اس مظاہرے میں گو کہ جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے قائدین شامل تھے لیکن اس کے باوجود صرف چند سو مظاہرین ہی اس احتجاج میں شریک تھے۔

اس موقع پر مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی کا کہنا کہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں نہ صرف جنرل مشرف کے دوبارہ صدارتی انتخاب کے خلاف استعفے دیں گی بلکہ یہ قوم کو سڑکوں پر بھی لائیں گی۔

جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس وقت قوم کی نظریں سپریم کورٹ کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ کیا وہ عوامی اُمنگوں کے مطابق فیصلہ کرتی ہے یا کہ کسی دباؤ کے تحت۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’عوام جیلوں سے نہ ڈریں اب تو پورا پاکستان ہی جیل بن گیا ہے۔‘

نواز شریف کے حمایتی
نواز شریف کے حمایتی لیڈر کی آمد کی منتظر

مظاہرے میں شریک کارکنوں سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ وہ ججوں کو اپنے ساتھ رکھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ عدالتیں ابھی مکمل آزاد نہیں اور اب عدالت عوام کی اُمنگوں کے مطابق فیصلہ کر کے یہ ثابت کر دے کہ عدالتیں آزاد ہیں۔

عمران خان نے اس موقع پر الیکشن کمشن کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن کو ایک حاضر سروس جرنیل کو انتخاب میں حصہ لینے سے روکنا چاہیے۔

اس موقع پر جنرل مشرف کے علاوہ حکومت اور امریکہ کے خلاف شدید نعرہ بازی بھی کی گئی۔

احتجاج کا یہ نیا سلسلہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی جلاوطنی کے بعد شروع ہوا تھا لیکن الیکشن کمشن کی جانب سے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے اعلان کے بعد ان احتجاجی مظاہروں نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔

اسی بارے میں
صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی
18 September, 2007 | پاکستان
پاکستانی عدلیہ پر دباؤ
20 September, 2007 | پاکستان
’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد