شوکت کی مشرف حمایت مہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم شوکت عزیز نے سندھ سے صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارتی انتخاب کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ سنیچر کے روز انہوں نے کراچی میں حکومت کے اتحادی فنکشنل لیگ کے سربراہ پیرپگارہ سے ملاقات کی ہے اور حکمراں جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے بھی خطاب کیا ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک قرارداد پیش کی جس میں کہاگیا تھا کہ ’ہم متفق طور پر صدر پرویز مشرف کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں، ان کی موجودگی ملک اور سندھ کی بہتری کے لیے فائدہ مند ہے۔‘ اجلاس میں وزیراعظم شوکت عزیز نے مسلم لیگ (ق) کے اراکین اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ صدر جنرل پرویز مشرف کو کامیاب کریں اور اپوزیشن کی منفی سیاست سے نہ گھبرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تقسیم ہوچکی ہے۔ان میں کچھ مثبت اور کچھ منفی سوچ رکھنے والے ہیں۔ حکومت مثبت سوچ رکھنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم شوکت عزیز نے سنیچر کی صبح کنگری ہاؤس میں پیرپگارہ سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر قائم مقام گورنر مظفر حسین شاہ، وفاقی وزراء محمد علی درانی اور شمیم صدیقی بھی موجود تھے۔ مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں تو شریک تھے مگر وزیر اعظم کے ساتھ پیرپگارہ سے ملاقات کے لیے نہیں گئے۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ صدر کی پوزیشن مضبوط ہے اور وہ آسانی سے صدارتی انتخاب جیت جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام اتحادی متفق اور متحد ہیں اور آئندہ عام انتخابات میں بھی ساتھ رہیں گے۔ پیر پگارہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) کے آدمی ہیں اور صدر پرویز مشرف جی ایچ کیو کے امیدوار ہیں اس لیے وہ ان کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ کراچی کے حالیہ دورے میں وزیراعظم شوکت عزیز کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے ملاقات شامل نہیں ہے۔گزشتہ شب لندن میں ایم کیو ایم کے ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیاگیا ہے کہ وردی میں صدارتی انتخاب کے بارے میں سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمے کے فیصلے کے بعد وہ اپنی حکمت عملی کا اعلان کرےگی۔ صدارتی الیکشن کے الیکٹوریل کالج میں شامل سندھ اسمبلی کا ایوان ایک سو اڑسٹھ ممبران پر مشتمل ہے، ایک رکن کے انتقال کی وجہ سے ایک سو سڑسٹھ اراکین ووٹ د ے سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ق کے پاس پینتالیس، متحدہ قومی موومنٹ کے پاس بیالیس، مسلم لیگ فنکشنل کے پاس پندرہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس چھپن، ایم ایم اے کے پاس آٹھ اور ایم کیو ایم حقیقی کے پاس ایک ایم پی اے ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی حتمی فیصلہ آیندہ چند روز میں کریگی۔ متحدہ مجلس عمل نےاستعفوں کا اعلان کیا ہے مگر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے استعفوں کی مخالفت کے بعد ایم ایم اے سے علیحدگی کی صورت میں سندھ میں اسمبلی ممبران کی رائے بھی تقسیم ہوجائےگی۔ | اسی بارے میں صدارتی انتخاب: اخبارات کی سرخیاں16 September, 2007 | پاکستان قواعد میں تبدیلی کے خلاف پٹیشن17 September, 2007 | پاکستان مجید ملک: استعفیٰ اور اختلافات 17 September, 2007 | پاکستان ’صدر کو مطلوبہ ووٹ حاصل‘20 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو20 September, 2007 | پاکستان شیڈول: قانونی جنگ یا سیاسی حکمت عملی 20 September, 2007 | پاکستان صدر اخبارات پر چھائے رہے21 September, 2007 | پاکستان ’فضل الرحمان کے فیصلے پر چلیں گے‘22 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||