BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عوام کی عدم دلچسپی، حکومتی سازش‘

News image
 عوام سڑکوں پر نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر حزبِ مخالف کے جلسے اور جلوسوں کا تماشہ ٹیلی ویژن چینلز پر دیکھتے ہیں
قاضی حسین احمد
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) کے اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں جمعہ کو صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مظاہروں میں عوام کی عدم دلچسپی اتحاد میں شامل جماعتوں کے لیے اس قدر لمحہِ فکریہ تھی کہ جماعت ِ اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے وفاقی دارالحکومت میں اکھٹے ہونے والے چند سو مظاہرین سے کہا کہ عوام کی عدم دلچسپی حکومت کی سازش ہے۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے ہونے والے مظاہرے کی قیادت جماعتِ اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی اور تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان نے کی لیکن ان رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود مظاہرین کی تعداد چند سو سے زائد نہ تھی۔

لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں ہونے والے مظاہروں کا احوال بھی اسلام آباد کے مظاہرے سے مختلف نہ تھا جہاں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی لیکن مظاہرین کی تعداد ہر جگہ سینکڑوں میں تھی۔

وفاقی دارالحکومت میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے عوامی عدم دلچسپی کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ’عوام سڑکوں پر نکلنے کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر حزبِ مخالف کے جلسے اور جلوسوں کا تماشہ ٹیلی ویژن چینلز پر دیکھتے ہیں‘۔

اس حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ ’ کہیں کامران خان شو تو کہیں طلعت حسین شو ہے، کہیں حامد میر شو ہے تو کہیں ڈاکٹر شاہد مسعود شو ہے، ہم سڑکوں پر آنسوگیس اور ڈنڈے کھاتے ہیں اور قوم گھروں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھتی ہے، یہ سازش ہے‘ ۔

اُن کا کہنا تھا کہ عوام کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا تاکہ جنرل پرویز مشرف کے ’غیر آئینی اور غیر قانونی ‘ اقدامات کا راستہ روکا جا سکے۔

فائل فوٹو
 اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے منعقد ہونے والے مظاہرے کی قیادت قاضی حسین احمد، مخدوم جاوید ہاشمی اور عمران خان نے کی لیکن ان رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود مظاہرین کی تعداد چند سو سے زائد نہ تھی

اسلام آباد کے مظاہرے میں موجود ایک صحافی نے مظاہرین کی تعداد کے حوالے سے کہا کہ دس ستمبر کو مسلم لیگ کے رہنماء نواز شریف کی وطن واپسی کی طرح ان کی ملک بیدخلی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک بھی عوامی عدم دلچسپی کی وجہ سے خود ہی دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔

جُمعہ کی سہ پہر اے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے انتیس ستمبر کو آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے ارکانِ اسمبلی کے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد میں شامل جماعتیں تیس ستمبر سے روزانہ کی بنیاد پر صدر جنرل پرویز مشرف کے آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کریں گی۔

انہوں نےاس حوالے سے کچھ نہیں بتایاکہ ان مظاہروں میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانے اور اتحاد کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے گی۔

بارہ اکتوبر مظاہرے
لاہور، کراچی، اور پشاور مظاہروں کی تصاویر
اسی بارے میں
’لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘
21 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد