نوازشریف فلاپ شو کاذمہ دار کون؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ نواز کے بعض کارکنوں نےنواز شریف کےاستقبال میں ناکامی کا سبب مسلم لیگ کی قیادت کو قرار دیا ہے اور اس بات کو ستم ظریفی قرار دیا ہے کہ’جو لیڈر فلاپ شو کاسبب بنے وہی اس ناکامی کی تحقیقات کررہے ہیں‘۔ مسلم لیگ نواز کا ایک اجلاس اتوار کو اسلام آباد میں ہورہا ہے پارٹی کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کے مطابق اس اجلاس میں ان وجوہات کی نشاندہی کی جائے گی جن کی وجہ سے نواز شریف کا استقبال نہ ہوسکا۔ کارکنوں کا کہنا ہےکہ اگر صرف دو شہروں راولپنڈی اور لاہور کی قیادت کا ایمانداری سے احتساب کرلیا جائے تو ہر بات سامنے آجائے گی۔کارکن اس بات کو مسترد کرتےہیں کہ پولیس کی رکاوٹوں نے ان کا راستہ روک لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پورے ملک کی طرح میزبان شہر راولپنڈی کے لیڈروں نے کارکنوں اور عوام کو متحرک ہی نہیں کیا جس کا واضح ثبوت راولپنڈی اسلام آباد کے پانچ تھانوں کا ریکارڈ ہے۔اس ریکارڈ کے مطابق نواز شریف کے استقبال والے دن گرفتار ہونے والوں میں سے صرف گیارہ کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے، باقی سب دوسرے شہروں اور صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک کارکن شیفق خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کے ڈیڑھ سو ساتھی ایک روز پہلے بہاولنگر سے راولپنڈی پہنچ گئے تھے اور کمیٹی چوک میں جب پتھراؤ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس چلنا شروع ہوئی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں نہ تو راولپنڈی کی قیادت تھی نہ کارکن۔ ایم ایم اے کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی بھی اکیلے کیمروں کے سامنے پہنچ گئے۔شفیق خان نے کہا کہ انہوں نے حنیف عباسی کو یاد دلایا کہ انہوں نے پچاس ہزار افراد لانے کاوعدہ کیا تھا وہ کہاں ہیں،لیکن حنیف عباسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کارکنوں نےیہ سوال اٹھایا ہے کہ جب اعلٰی قیادت نے یہ کہاتھا کہ گرفتاری نہیں دینی تو پھر انہوں نے اتنی آسانی سےگرفتاری کیوں دیدی؟راجہ ظفرالحق نے گھر نہیں چھوڑا اور رات دوبجے حراست میں لیے گئے، جاوید ہاشمی کو پارلیمنٹ لاجز میں نظربندکیا گیا۔صوبائی جنرل سیکرٹری اشفاق سرور اپنے گھر سے پکڑے گئے۔ راولپنڈی کی استقبالی کمیٹی کے انچارج چودھری تنویر تھے نواز شریف کی آمد سے دس روز پہلے ان کےگھرگرفتاری کے چھاپے کی خبر چلی اور اس کے بعد نہ تو وہ کسی کو ملے نہ کوئی استقبالی اقدامات کرتے نظر آئے۔ لاہور کے کارکنوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر راولپنڈی کی قیادت پولیس کا سامنا نہیں کرسکتی تھی تو انہوں نے نواز شریف کو راولپنڈی اترنے کے لیے زور کیوں دیا؟ کارکنوں کا کہنا ہے کہ لیڈروں کا کام تھا کہ جلسے جلوس نکالتے کارکنوں کو متحرک کیا جاتا اور گلی گلی گھرگھر جاکر عوام کو نواز شریف کے استقبال کے لیے کہا جاتا لیکن کسی لیڈر کی یہ ترجیح نہیں تھی۔
لاہور شریف خاندان کا آبائی شہر ہے اور قومی اسمبلی کے تین حلقوں سے نواز شریف، شہباز شریف اور عباس شریف الیکشن لڑتےہیں۔ پارٹی کے ایک عہدیدارنے بتایا کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے پونے تین کروڑ روپے کا چندہ اکٹھا کرکے لاہور میں استقبالی کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ کمیٹی نے اس رقم سے شہر میں جھنڈیاں، بینر، نواز شریف کی تصاویر لگانی تھیں اور دس ستمبر کو ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرنا تھا۔ کارکنوں نے کہا ہے کہ لاہور کی استقبالی کمیٹی سے اس رقم کا ضرور پوچھا جائے کیونکہ دس ستمبر کو تیس سے زیادہ بسیں اور کوسٹر راولپنڈی کے لیے نہیں گئیں اور پورے شہر میں کوئی پوسٹر اور بینر نظر نہیں آسکا۔ لاہور سے خواجہ سعد رفیق کو پچاس ہزار لوگوں کا جلوس لیکر جانا تھا لیکن وہ خود ہی نظر نہیں آئے اور لاہور سے جو سب سے بڑا قافلہ رات ساڑھے نو بجےروانہ ہوا اس میں مجموعی طور پر صرف سات بسیں تھیں جن میں چند درجن افراد سوار تھے۔ نسبت روڈگوالمنڈی کے محمد وسیم نواز شریف کے حامیوں میں سے ایک ہیں جو ٹرانسپورٹ کے انتظار میں رہے لیکن کوئی بندوبست نہ ہونے پر ٹی وی کے سامنے جابیٹھے۔ان کے بقول ان کی طرح بڑی تعداد میں لوگ راولپنڈی جاناچاہتے تھے لیکن گرفتاری کا خوف اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے نہ جاسکے۔ مسلم نواز کے صوبائی دفتر میں موجود چند کارکنوں نے کہا کہ اعلٰی قیادت کے چند فیصلے ہی ناکام شو کا سبب بنے۔ان فیصلوں میں نواز شریف کا اپنی آمد سے صرف ایک روز پہلے معاہدے کا اعتراف کرنا اور پارٹی چھوڑ کر قاف لیگ میں جانے والوں کے لیے معافی کا مشروط اعلان شامل ہیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ سات برس تک اپوزیشن میں رہنے والے کارکنوں میں یہ بات بددلی کا سبب بنی کہ بے وفائی کرنے والے پھر پارٹی میں اچھا مقام حاصل کرلیں گے۔ گجرات کے محمد عاطف راولپنڈی میں کچہری کے پاس سےگرفتار ہوئے پولیس سے جھڑپ اور بعد میں مبینہ تشدد سے ان کا بازو ٹوٹ گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انہیں زخموں کی اتنی تکلیف نہیں ہے جتنی نواز شریف کے ساتھ مقامی قیادت کے سلوک کا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ نواز شریف سے ہونے والے سلوک پر حوالات میں بند کارکن دھاڑیں مار کے روتے رہے۔ مسلم لیگ کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی اس فلاپ شو پر اپنی ناکامی کااعتراف کرتے ہوئے استعفی پیش کرچکے ہیں جو صدر مسلم لیگ شہباز شریف نے مسترد کردیا تھا تاہم چند کارکنوں نے کہا ہے کہ صرف ایک شخص کی معافی کافی نہیں ہے۔مسلم لیگ نواز کے پورے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگی کارکن سجاد حیدر وٹو نے کہا کہ اتوار کی میٹنگ میں سارا ملبہ کارکنوں پر ڈال دینے سے پہلے قیادت کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے۔ | اسی بارے میں آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟12 September, 2007 | پاکستان ’عوام کی عدم دلچسپی، حکومتی سازش‘22 September, 2007 | پاکستان نواز کا فائیو سٹار خواب19 September, 2007 | پاکستان ’لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘21 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||