مشرف مستعفی ہو جائیں: ہاشمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں اور نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کی عدم موجودگی میں غیر جانبدار اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ اتوار کو لاہور میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں حکومتی مداخلت سے بچنے کے لیے جنرل مشرف کا کرسیِ صدارت پر نہ ہونا ضروری ہے۔ ’جنرل مشرف مستعفی ہو کر ثابت کر دیں کہ وہ غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لیے امیدوارں کی نامزدگیوں کے لیے اپنے اجلاس بلا کر صدر مشرف کے ’الیکشن جال‘ میں نہ پھنسیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی قوم کو خوشخبری سنانے کے قابل ہوجائیں گے کہ آئندہ انتخابات جنرل مشرف کے بغیر ہو رہے ہیں۔
مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتخابات کی تیاریوں کی بجائے مشرف مخالف تحریک چلائی جائے، کیونکہ فردِ واحد کی مرضی کے تحت ہونیوالے انتخابات ملک کے لیے مزید مشکلات پیدا کرینگے۔ جاوید ہاشمی اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے صدر بھی ہیں۔ مسلم لیگ (نواز) کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی اس اتحاد کا حصہ ہے۔ تاہم بےنظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے درمیان مبینہ ڈیل کی خبروں سے اتحاد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اگر ایسا کچھ کر رہی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے، تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اے آر ڈی ختم نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’ہم پیپلز پارٹی کو کھینچ کر اپنے ساتھ رکھنا چاہیں گے، کیونکہ یہ سولہ کروڑ عوام کےحق کی بات ہے۔ ہم منتیں بھی کریں گے اور انہیں سمجھائیں گے بھی۔‘ جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ کل جماعتی جمہوری محاذ یعنی اے پی ڈی ایم انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ یہ ’اتحادوں کا اتحاد‘ ہے۔
اخباری کانفرنس میں جاوید ہاشمی کے ساتھ مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذالفقار علی کھوسہ بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس کے بعد جاوید ہاشمی ایک قافلے کے ساتھ اسلام آباد روانہ ہوئے جہاں وہ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرینگے۔ قافلے میں شامل مسلم لیگی کارکن ’گو مشرف گو، وزیراعظم نواز شریف، ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ بغاوت کے مقدمے میں پونے چار سال تک جیل میں رہنے کے بعد جاوید ہاشمی سنیچر کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ رہائی کے بعد وہ ایک جلوس کی شکل میں داتا دربار اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں ’دم توڑتی حکومت کو آکسیجن فراہم نہ کریں‘05 August, 2007 | پاکستان پارٹیوں میں بھی آمریت تسلیم نہیں: ہاشمی04 August, 2007 | پاکستان رہائی میں آخری رکاوٹ بظاہرختم04 August, 2007 | پاکستان جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم03 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کیوں قید ہیں: عدالت01 August, 2007 | پاکستان جاوید ہاشمی کی ’عارضی‘ رہائی23 December, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||