جاوید ہاشمی کی رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی بغاوت کے جرم میں سزا کو معطل کرتے ہوئے ان کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں کام کرنے والے تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کےسابقہ فیصلے کو ختم ہوئے جاوید ہاشمی کو پچاس ہزار روپے زر ضمانت کے مچلکے سپریم کورٹ رجسٹرار کے پاس جمع کرانے پر فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔ واضح رہے کہ جب جاوید ہاشمی کو بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا وہ قومی اسمبلی کے رکن تھے اور معیاد کے لحاظ سے ان کی رکنیت برقرار ہے۔ سپریم کورٹ نے2006 میں جاوید ہاشمی کی ضمانت کی درخواست کو قبول نہیں کیا تھا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو تین سال دس ماہ قبل فوج پر تنقید کرنے کی پاداش میں مجموعی طور پر تئیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن کسی ایک جرم میں ان کی زیادہ سے سزا سات سال تھی۔یہ تمام سزائیں بیک وقت چل رہی تھیں۔ سپریم کورٹ کا بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ ان کو موکل ریاستی جبر کانشانہ بنے تھے اور فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں وہ تقریباً چھ سال سے پابند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج میں بغاوت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیے جانے سے پہلے جاوید ہاشمی کو نیب کے قانون کے تحت ان کو دو سال تک جیل میں رکھا گیا تھا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی طرف سے سزا پانے کے بعد اپریل 2004 میں لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس کی آج تک ایک سماعت نہیں ہوئی۔ ایڈوکیٹ اکرم شیخ کا موقف تھا کہ ان کے مؤکل جیل مینوئل میں دی گئی رعایتوں کی روشنی میں سزا پوری کر چکے ہیں۔
حکومت کے وکیل اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سعید اکرم نےجاوید ہاشمی کو جیل مینوئل میں دی گئی رعاتیں دیئے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی کو غداری کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی اور وہ رعایتوں کے مستحق نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جاوید ہاشمی کو رہا کرنے کے حکم پر عملدرآمد سنیچر کو متوقع ہے۔ جاوید ہاشمی کے وکیل اکرم شیخ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے جمعہ کی دوپہر تک عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق مختلف قانونی تقاضے پورے کر دیے جس میں زرضمانت کے مچلکے بھی شامل ہیں۔ جاوید ہاشمی کے چھوٹے بھائی مختار ہاشمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی سنیچر کو آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔انہوں نے کہا جاوید ہاشمی کے خلاف سرکاری اہلکاروں سے جھگڑے کا ایک مقدمہ ہے لیکن ہمارے وکلاء نے ہمیں بتایا ہےکہ بظاہر اس مقدمے سے ان کی رہائی میں خلل نہیں پڑ سکتا۔ مختار ہاشمی کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی رہا ہونے کی صورت پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ہاشمی: درخواست ضمانت خارج09 October, 2006 | پاکستان ’جاوید ہاشمی کوپیش کریں‘ 19 April, 2007 | پاکستان ’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘23 December, 2006 | پاکستان جاوید ہاشمی اور متنازع خط30 October, 2003 | پاکستان جاوید ہاشمی کی گرفتاری ،کسے کیا ملا04 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||