BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 April, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جاوید ہاشمی کوپیش کریں‘

ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت میں قید ہیں
حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے ارکان نے اتحاد کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی کو قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں شرکت کے لئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں مشترکہ طور پر ایک تحریری درخواست آج قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائی ہے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری امیر حسین کے نام یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی چوہدری اعتزاز احسن، سید خورشید شاہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام پارلیمانی لیڈر نثار علی خان اور جاوید ہاشمی کی صاحبزادی میمونہ ہاشمی نے مشترکہ طور پر دی ہے۔

درخواست میں اسپیکر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 23 اپریل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جاوید ہاشمی کی شرکت کے لیے ضروری حکم نامہ جاری کریں تاکہ وہ ایوان میں اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی کرسکیں۔

 ’وہ چاہے ہمارا زمانہ ہو یا نواز شریف صاحب کا زمانہ ہو گرفتار ممبران کو بلایا جاتا رہا ہے۔ ان میں چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری بھی شامل رہے ہیں۔‘

اس قسم کی درخواست پر کارروائی کے طریقہ کار کے بارے میں اے آر ڈی کے پارلیمانی سیکریٹری اظہار امروہوی نے بتایا کہ کسی بھی گرفتار یا قید رکن اسمبلی کی اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں سپیکر کو درخواست دی جاتی ہے اور قوائد کے مطابق سپیکر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس رکن کو اسمبلی سیشن کی مدت کے دوران ایوان میں بلائیں اور جب سیشن ختم ہو تو اسے واپس جیل بھیج دیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی زیر حراست ارکان اسمبلی کو اس طرح ایوان میں بلایا جاتا رہا ہے۔ ’وہ چاہے ہمارا زمانہ ہو یا نواز شریف صاحب کا زمانہ ہو گرفتار ممبران کو بلایا جاتا رہا ہے۔ ان میں چوہدری شجاعت حسین اور آصف زرداری بھی شامل رہے ہیں۔‘

جاوید ہاشمی کو اسمبلی کے اجلاس میں شریک کرانے کے سلسلے میں اس سے قبل بھی حزب اختلاف کی جانب سے متعدد درخواستیں دی جا چکی ہیں لیکن ان پر کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔

جاوید ہاشمی جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام صدر بھی ہیں ان دنوں لاہور کی کوٹ لکھپت میں قید ہیں۔ انہیں ساڑھے تین سال قبل اکتوبر 2003 ء کو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد ان پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بند کمرے میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں 23 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کی گرفتاری کی وجہ مبینہ طور پر ایک گمنام فوجی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بنا تھا جو انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفیٹریا میں پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا۔ اس خط میں جنرل پرویز مشرف کی حکمرانی پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
ہاشمی: درخواست ضمانت خارج
09 October, 2006 | پاکستان
باقاعدہ سماعت شروع
08 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد