BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2003, 11:17 GMT 16:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باقاعدہ سماعت شروع

جاوید ہاشمی
’انتہائی ابتر حالات میں گوانتاناموبے کے قیدیوں سے بھی برا سلوک کیا جا رہا ہے‘

اے آرڈی کے صدر جاوید ہاشمی کے خلاف داخل کردہ بغاوت کے مقدمے کی باقائدہ سماعت شروع کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج اسد رضا چودھری نے سولہ دسمبر کو ان پر فرد جرم عائد کرنے کا حکم دے دیاہے-

پیر کے روز سماعت شروع ہوئی تو جاوید ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ساتھ جیل میں بہت برا سلوک کیا جارہا ہےـ انکا کہنا تھا کہ ان کو عادی مجرم قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا ہےـ ’جیل کی تنگ کوٹھڑی میں ہوا بھی نہیں آتی اور ذہنی تشدد کانشانہ بھی بنایا جارہا ہے‘ـ

عدالت نے استفسار کیا کہ جب ہوا نہیں آتی تو آپ زندہ کیسے ہیں؟ ہاشمی نے کہا کہ ان کے ساتھ انتہائی ابتر حالات میں گوانتاناموبے کی قید میں رکھے گئے قیدیوں سے بھی برا سلوک ہورہا ہے۔ مقدمہ چلائے بغیر مجرموں جیسا سلوک کیا جا رہاہےـ

ہاشمی نے کہا کہ وہ سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور اے کلاس ان کا قانونی حق ہےـ انہوں نے عدالت سے طبی معائنے کی بھی درخواست کی جو عدالت نے منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ہاشمی کو جیل میں اے کلاس دی جائے اور ان کا طبی معائنہ بھی کروایا جائےـ

عدالت نے اگلی سماعت سولہ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے بتایا کہ اگلی سماعت میں جاوید ہاشمی پر بغاوت کے مقدمہ میں فرد جرم عائد کردی جائے گی ـ

پیر کی صبح جاوید ہاشمی کو اڈیالہ جیل سے سخت حفاظتی انتظامات میں جب عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے وکلاء سید ظفر علی شاہ اور حشمت حبیب ایڈوکیٹ کے علاوہ راجہ ظفرالحق ، راجہ نادرپرویز، میمونہ ہاشمی اور دیگر پارٹی رہنما و کارکنان بھی موجود تھےـ

عدالت میں پیشی کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگر جرنیلوں کے نزدیک پاکستان سے محبت کرنا، آئین و جمہوریت کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے آواز اٹھانا بغاوت ہے تو ہاں وہ باغی ہیں ـ ان کو جرنیلوں کی بالادستی اور ملک پر تسلط منظور نہیں ہےـ جب تک غاصبوں سے نجات نہیں ملتی وہ ہر قیمت پر اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں ’ملکی سیاست میں فوج کا کوئی کام نہیں ملک و قوم اور خود فوج کے ادارے کے مفاد میں یہی ہے کہ فوج پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں سے واپس بیرکوں میں چلی جائے اور ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ لیگل فریم ورک آرڈر اور جنرل مشرف کو صدر تسلیم نہیں کرتےـ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل نے کوئی مصنوعی آئینی پیکیج قبول کیا اور 1973ء کے آئین سے ہٹ کر حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو متحدہ مجلس عمل کی عوامی ساکھ تباہ ہوجائےگی ـ

واضع رہے کہ جاوید ہاشمی کو فوج میں نفرت پھیلانے کے جرم میں 29 اکتوبر کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا ـ ضابطہ فوجداری کی دفعات 131 ـ 500 ـ 500 اے ـ469 ـ 471 ـ 124 ـ اے ـ 468 اور 109 کے تحت اب ان پر مقدمہ چلایا جائے گا -

جاوید ہاشمی نے مبینہ طور پر بعض فوجیوں کی جانب سے موصول ہونے والا خط پریس کانفرنس میں جاری کیا تھا ـ جس میں جنرل پرویز مشرف پر شدید تنقید کرتے ہوئے کارگل کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھاـ

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد