BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 August, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی سیاسی ارتقاء کی کہانی

جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا
مخدوم جاوید ہاشمی کو انیس اکتوبر سال 2003 کو فوجی قیادت کے نام ایک خط کی کاپیاں تقسیم کرنے کے الزام میں جب ایک ریٹائرڈ میجر کی شکایت پر پارلیمنٹ لاجز سے خفیہ ایجنسوں کے اہلکاروں نےگرفتار کیا تو یہ سیاست دانوں کے لیے فوج کا ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان میں آزادی اظہار کا دائرہ انتہائی محدود ہے۔

فوجی قیادت نےمخدوم جاوید ہاشمی کی شکل میں فوج پر تنقید کرنے والوں کے لیے ایک مثال قائم کرنی چاہی اور ان کو صرف ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی گواہی پر فوج میں بغاوت پیدا کرنے کے الزام میں سزا دلوائی گئی۔

جاوید ہاشمی جب تین سال نو ماہ اور چوبیس روز بعد سنیچر کو جیل سے باہر آئے تو انہیں یقیناً ملک میں فوج کے سیاسی کردار کے بارے لوگوں کی رائے میں تبدیلی نظر آئی ہوگی۔

شریف خاندان جب سن دو ہزار میں فوجی حکومت سے ڈیل یا مفاہمت کے ذریعے نہاری پکانے کے دو ماہر باورچیوں سمیت اٹھارہ لوگوں کو لے کر سعودی عرب کے لیے روانہ ہوا تو اسلام آباد ائر پورٹ کے ٹارمک سے مخدوم جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ نواز کا قائم مقام صدر مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا۔

 جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا کہ فوج پر تنقید کی ایک حد تک اجازت ہے لیکن اس سے آگے بڑھنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائےگا

مخدوم جاوید ہاشمی نے آئی جے آئی کی کوکھ سے جنم لینے والی پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹی بنانے کی کوشش شروع کر دی اور کسی حد تک اس میں کامیابی بھی حاصل کر لی۔

یہ ایک الگ بحث ہے کہ آئی جے آئی کو کس نے بنایا حالانکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حمید گل اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کا دعوٰی کرتے رہے ہیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی نےفوجی قیادت کے نام خط تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے دوسری جماعتوں کو بھی ساتھ شامل کرنا چاہا۔ پاکستان پییلز پارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن، جے یو آئی کے حافظ حسین احمد اور جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ بھی نیشنل اسمبلی کے کیفیٹریا میں ہونےو الی پریس کانفرنس میں موجود تھے، لیکن مقدمہ صرف جاوید ہاشمی کے خلاف درج ہوا۔

جاوید ہاشمی کی گرفتاری فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو واضح پیغام تھا کہ فوج پر تنقید کی ایک حد تک اجازت ہے لیکن اس سے آگے بڑھنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا جائےگا۔

جاوید ہاشمی کےساتھ فوج نے وہ سلوک تو نہ کیا جو انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے ممبر پنجاب اسمبلی رانا ثنا اللہ کے ساتھ کیا تھا ، جب انہوں نے پنجاب اسمبلی کے فلور سے فوج پر تنقید کی لیکن ، جاوید ہاشمی کی گرفتاری کے بعد ان پر جو الزامات لگائےگئےاور پھر جس انداز میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے ایک بند کمرے میں ان کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی لوگوں کو عدالتی فیصلے کا اندازہ ہو چکا تھا۔

جاوید ہاشمی کا تعلق ملتان کےگاؤں مخدوم رشید سے ہے

مخدوم جاوید ہاشمی کےمقدمے کی سماعت کے دوران مسلم لیگ کی بیرون ملک قیام پذیر قیادت جاوید ہاشمی کی تکالیف پر زیادہ پریشان نظر نہ آئی اور جب مخدوم جاوید ہاشمی کو اڈیالہ جیل میں قائم عدالت میں سزا سنائی جانے والی تھی تو پارٹی کارکنوں کو میاں شہباز شریف کی ملک واپسی کی تیاریاں کرنے کے احکامات موصول ہو چکے تھے۔

مخدوم جاوید ہاشمی زمانہ طالبعلمی میں جماعت اسلامی کی ذیلی طلبا تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم رکن رہے اورسال 1971 میں پنجاب یورنیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے اپنی عملی سیاست کا آغاز بھی پاکستان کے اکثرسیاستدانوں کی طرح فوجی آمریت سائے میں کیا اور انیس سو اٹھہتر میں پاکستان کی تاریخ کے بدترین فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور نوجوانان مقرر ہوئے۔

انیس سو پچاسی میں غیر جماعتی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے کے بعد اس اپوزیشن گروپ کے ممبر بنے جس نے ضیا الحق کی خواہشات کے برخلاف سید فخر امام کو سپیکر قومی اسمبلی منتخب کرایا۔

 جاوید ہاشمی نے اس وقت انتہائی اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اندر رہ کر ایک ایسے قانون کی مخالفت کی جو اگر پاس ہو جاتا تو کسی مجرم کو بھی شہر کے چوک میں پھانسی دی جا سکتی تھی

چار دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی نے اس وقت انتہائی اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے پارٹی کے اندر رہ کر ایک ایسے قانون کی مخالفت کی جو اگر پاس ہو جاتا تو کسی مجرم کو بھی شہر کے چوک میں پھانسی دی جا سکتی تھی۔

پاکستان کے موجودہ سیاستدانوں میں مخدوم جاوید ہاشمی نےملک میں فوجی حکمرانی کے بارے میں ایک واضح موقف اختیار کیا اور اس کے لیے قربانی بھی دی۔

اسی بارے میں
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد