BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 08:22 GMT 13:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید ہاشمی کیوں قید ہیں: عدالت

جاوید ہاشمی
جاوید ہاشمی کو فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی
سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے مسلم لیگ کے قائم مقام صدر مخدوم جاوید ہاشمی کے مقدمے کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرنے کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا اور حکومت کو حکم جاری کیا ہے کہ حکومت جاوید ہاشمی کو جیل میں رکھنے کی وضاحت کرے۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں سزا سنائی گی تھی۔مخدوم جاوید ہاشمی کے وکیل نےعدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور جیل مینوئل میں دی گئی رعایتوں کی روشنی میں اب وہ رہائی کے مستحق ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ریکارڈ سے لگتا ہے کہ مخدوم جاوید ہاشمی اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور اگر حکومت ان کی جیل میں رکھنا چاہتی ہے تو عدالت کو بتائے کہ وہ کس بنا پر ان کو جیل میں رکھ سکتی ہے۔

مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو حکومت کی طرف سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشد چودھری نے عدالت کو بتایا کہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب عدالت میں چھٹیاں ہیں اور اس مقدمے کو ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

مقدمے کی سماعت کو جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے عدالت کو حکم دیا کہ اگرحکومت جاوید ہاشمی کے مقدمے کی سماعت کو لمبے عرصے تک ملتوی کرانا چاہتی ہے تو اسے جاوید ہاشمی کے لیے کوئی متبادل انتظام کرنا پڑے گا کیونکہ وہ بادی النظر میں اپنی سزا پوری کر چکے ہیں۔

جاوید ہاشمی کو تین سال پہلے فوج پر تنقید کرنے کے الزام میں مجموعی طور پر انیس سال قید کی سزا سنائی گی تھی۔جاوید ہاشمی کی ایک جرم میں زیادہ سے زیادہ سات سال سزا ہے اور تمام سزائیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔

سرکاری وکیل نےعدالت کی توجہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے اس خط کی طرف بھی دلائی جس میں انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی کو غداری کے الزام میں سزا دی گئی ہے اس لیے ان کو جیل مینوئل میں دی گئی رعایتیں نہیں مل سکتیں اور ان کو سات سال تک جیل میں رہنا پڑے گا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ درخواست گزار کی ایک یہ شکایت بھی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے جاوید ہاشمی کی اپیل کی ایک بار بھی سماعت نہیں کی ۔

مقدمے کی اگلی سماعت تین اگست کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل تھا۔

اسی بارے میں
ہاشمی: درخواست ضمانت خارج
09 October, 2006 | پاکستان
’پیرول نہیں بحالی جمہوریت‘
23 December, 2006 | پاکستان
جاوید ہاشمی اور متنازع خط
30 October, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد