BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 August, 2007, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارٹیوں میں بھی آمریت تسلیم نہیں: ہاشمی

مخدوم جاوید ہاشمی
’اس لیے جیل نہیں کاٹی کہ سیاسی جماعتوں میں آمریت کو تسلیم کریں‘
مسلم لیگ (نواز) کے قائم مقام صدر اور رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی پونے چار سال قید رہنے کے بعد سنیچر کو لاہور کی کوٹ لکھپت سنٹرل جیل سے رہا ہوئے تو سینکڑوں لوگوں نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔

جیل سے باہر آنے پر جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں اس وقت رہا ہوں گے جب پارلیمان اور ادارے آزاد ہونگے۔ جاوید ہاشمی کا استقبال کرنے والوں میں سابق صدر جسٹس رفیق تارڑ (ریٹائرڈ) اور مسلم لیگ (نواز) کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نمایاں تھے۔

سپریم کورٹ سے رہائی کا حکم جاری ہونے کے بعد بی بی سی کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ رہا ہو رہے ہیں تو بدلا بدلا پاکستان ہے، بدلی بدلی عدلیہ ہے اور بدلی بدلی سیاست ہے۔’شخصیات کے گرد گھومنے والی سیاست کا دور اب ختم ہوگیا ہے، سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے اندر جمہوریت لانا ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چھ سال تک اس لیے جیل نہیں کاٹی کہ باہر آنے کے بعد سیاسی جماعتوں میں آمریت کو تسلیم کریں۔

کوٹ لکھپت جیل کے باہر صبح سے ہی مسلم لیگی کارکن جمع ہونا شروع ہوگئے تھے جبکہ شام چار بجے کے بعد ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ جاوید ہاشمی جب جیل سے باہر آئے تو کارکنوں نے کئی کبوتر آزاد کیے۔

استقبال کے لیے آنے والوں نے جاوید ہاشمی اور نواز شریف کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں

استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں نے مسلم لیگ کے جھنڈوں کے علاوہ بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن میں سے بیشتر پر تحریر تھا ’ایک بہادر آدمی، ہاشمی ہاشمی‘۔ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور بار بار ’گو مشرف گو‘ کا نعرہ فضا میں گونجتا تھا۔

جیل سے رہائی کے بعد جاوید ہاشمی کارکنوں کے جلوس میں داتا دربار اور علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے کے بعد لاہور میں اپنے حلقے کا دورہ کرینگے۔ یاد رہے کہ جاوید ہاشمی سال دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ملتان میں اپنے راویتی حلقے میں پیپلز پارٹی کے مخدوم شاہ محمود قریشی سے ہار گئے تھے اور شمالی لاہور کے حلقے 123-NA سے منتخب ہو کر رکن قومی اسمبلی بنے تھے۔

جاوید ہاشمیضیاء سے مشرف تک
جاوید ہاشمی کے سیاسی ارتقاء کی کہانی
جاوید ہاشمی’پیرول یا جمہوریت‘
پیرول کی بجائے بحالی جمہوریت کی درخواست
 جاوید ہاشمی ’میں باغی ہوں‘
’ اس ملک کو سر پھروں کی ضرورت ہے‘
جاوید ہاشمیغیر متوقع نہیں
سزا غیر متوقع نہیں: سیاسی حلقے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد